کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ آج ارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دوار سے الیکشن کمیشن تک مارچ نکال رہے ہیں۔ یہ مارچ ایس آئی آر عمل اور راہل گاندھی کی جانب سے لگائے گئے “ووٹ چوری” کے الزامات کے خلاف منعقد کیا گیا ہے۔ راستے میں اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ کو روکنے کے لیے بیریکیڈنگ بھی کی گئی ہے۔ اکھلیش یادو بیریکیڈز پر چڑھتے بھی نظر آئے۔ اس دوران اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے ایم پی راہل گاندھی نے کہا، “حقیقت یہ ہے کہ وہ بات نہیں کر سکتے۔ سچائی ملک کے سامنے ہے۔ یہ لڑائی سیاسی نہیں ہے، یہ لڑائی آئین بچانے کی ہے، یہ لڑائی ایک فرد، ایک ووٹ کی ہے۔ ہم ایک صاف و شفاف ووٹر لسٹ چاہتے ہیں۔”
حراست میں لیے جانے کے بعد تمام اراکین پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے لے جایا گیا ہے۔ راہل گاندھی، اکھلیش یادو، پرینکا گاندھی ، سنجے سنگھ سمیت مارچ میں شامل کئی اراکین پارلیمنٹ کو دو بسوں میں بھر کر مارچ کے مقام سے لے جایا گیا۔
ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ متالی باگ احتجاج کے دوران بے ہوش ہو گئیں۔
انہیں پولیس نے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد وہ اچانک بے ہوش ہو گئیں۔ راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے فوری طور پر انہیں سنبھالا اور مدد فراہم کی۔
INDIA بلاک کے سینئر رہنما—کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، این سی پی-ایس سی پی کے سربراہ شرد پوار بھی اس مارچ میں شامل ہوئے۔ دہلی پولیس نے مارچ کو راستے میں ہی روک لیا۔ اس پر اکھلیش یادو نے کہا،”…وہ ہمیں روکنے کے لیے پولیس کا استعمال کر رہے ہیں…”
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سید نصیر حسین نے کہا،”ہمیں الیکشن کمیشن سے ملنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے 300 سے زیادہ ایم پی یہاں مارچ کر رہے ہیں۔ پولیس یہاں اراکین پارلیمنٹ کو گرفتار کر رہی ہے اور ہمیں الیکشن کمیشن سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔”
“…الیکشن کمیشن کی ساکھ کو نقصان ہو رہا ہے”
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور بھی راہول گاندھی کی قیادت میں نکالے گئے مارچ میں شامل ہوئے۔ ان کا کہنا تھا:”جب تک لوگوں کے دل میں انتخابات کی شفافیت پر شبہ ہے، تب تک الیکشن کمیشن کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ اگر یہ شکوک دور ہو جائیں تو الیکشن کمیشن اپنی ساکھ دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ ان سوالات کو سلجھانا خود الیکشن کمیشن کے مفاد میں ہے۔”
اکھلیش بیریکیڈز پر چڑھے، پرینکا نے نعرے لگائے
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو بھی مارچ میں شامل تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن پر کئی بار سوال اٹھ چکے ہیں، اگر شکایات ہیں تو الیکشن کمیشن کو کارروائی کرنی چاہیے، خاص طور پر اتر پردیش میں جہاں ووٹوں کی لوٹ مار ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں اپنی بات رکھنا چاہتے ہیں لیکن حکومت سننے کو تیار نہیں۔ قصورواروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
الیکشن کمیشن نے خط کا جواب نہیں دیا – جے رام رمیش
کانگریس کے ترجمان جے رام رمیش نے کہا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا اور مطالبہ کیا کہ 300 ایم پی مارچ کر کے الیکشن کمیشن آنا چاہتے ہیں، لیکن الیکشن کمیشن نے جواب نہیں دیا اور صرف 30 ایم پی آنے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام اراکین اپنا میمورنڈم الیکشن کمیشن کو پیش کریں، لیکن مارچ کو راستے میں روک دیا گیا ہے اور الیکشن کمیشن تک جانے نہیں دیا جا رہا۔
مارچ میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے اراکین شامل
اس مارچ میں کانگریس، سماج وادی پارٹی، عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے سمیت کئی جماعتوں کے ایم پیز شامل ہیں۔ ایس پی کے سربراہ اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی بھی موجود ہیں۔ دونوں ایوانوں کے اراکین پارلیمنٹ نے تختیاں اٹھا رکھی ہیں جن پر لکھا ہے: “ایس آئی آر جمہوریت پر حملہ ہے” اور “ووٹ چوری” کے نعرے درج ہیں۔ راہول گاندھی سب سے آگے چل رہے ہیں اور اپوزیشن کے تمام بڑے رہنما ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر مارچ کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…