روس اوریوکرین جنگ کو تین سال گزر چکے ہیں اوراب تک دونوں کے درمیان جنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دونوں ممالک کے درمیان امن کی تجویز کی کوششوں کو روس کی جانب سے بڑا دھچکا لگا ہے۔
امریکہ یوکرین جنگ بندی کی تجویز کے حوالے سے روس کی جانب سے بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے سینئر معاون یوری اوشاکوف نے امریکی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت میں جنگ بندی کی تجویز پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا، ‘یہ محض ایک عارضی انتظام ہو گا، جس میں یوکرین کی فوج کو بس سانس لینے کی مہلت مل جائے گی۔ اس جنگ بندی کا اس سے زیادہ کوئی مطلب نہیں ہے۔
’ولادیمیر پوتن پرامن حل نکالیں گے‘
یوری اوشاکوف نے کہا، “صدرولادیمیر پوتن ممکنہ طور پر جمعرات کو مزید مخصوص اور ٹھوس تشخیص دیں گے۔” اوشاکوف نے یہ بھی کہا، ‘روس ایک طویل مدتی پرامن حل کے لیے کوشاں ہے، جس سے روس کے جائز مفادات محفوظ ہوں گے’۔
‘فی الحال امن معاہدے کی ضرورت نہیں’
ولادیمیر پوتن کے سینئر معاون یوری اوشاکوف نے میڈیا کو بتایا، ‘ہم پرامن حل چاہتے ہیں اور ہم اس کے لیے کام کر رہے ہیں۔’ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میرا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی کو امن معاہدے کی ضرورت نہیں۔’
امریکی وفد روس پہنچا
امریکی مذاکرات کار جمعرات کو روس گئے تھے تاکہ روس اور یوکرین میں 30 روزہ جنگ بندی کا اپنا منصوبہ پیش کریں۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ واشنگٹن نے ماسکو پرتین سال سے جاری تنازع کو غیر مشروط طورپرختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔
ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار امریکی صدر بننے کے بعد سے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ روس یوکرین میں جنگ بندی ہو۔ ڈونلڈٹرمپ نے اس کے لیے یوکرین کے صدرزیلنسکی سے بھی بات کی ہے۔ اس سب کے درمیان روس کی جانب سے امن تجویز کے حوالے سے امریکہ کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…