سیاست

Mamta Banerjee controversial statement: ملائم سنگھ کے نقشِ قدم پر ممتا بینرجی، لڑکیوں سے متعلق دیا متنازع بیان

مغربی بنگال میں ایک پرائیوٹ میڈیکل کالج کی طالبہ کے ساتھ ہونے والے گینگ ریپ کے معاملے نے ریاست کی قانون و انصاف کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کا اس واقعے پر دیا گیا متنازع بیان سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ بنرجی نے نہ صرف اس واقعے کو دیگر ریاستوں سے جوڑا بلکہ سوال متاثرہ لڑکی پر ہی اٹھا دیے۔ ان کا یہ بیان سماجوادی پارٹی کے مرحوم لیڈر ملائم سنگھ یادو کے اُس پرانے بیان کی یاد دلا رہا ہے، جب انہوں نے کہا تھا: ’’لڑکوں سے غلطی ہو جاتی ہے۔‘‘ اب ممتا بینرجی کے اس بیان کو خواتین مخالف رویے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ممتا بینرجی نے درگاپور میں ایک میڈیکل طالبہ کے ساتھ ہوئے اجتماعی زیادتی کے معاملے پر کہا: ’’لڑکیوں کو رات میں باہر نہیں جانا چاہیے، اور پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو اپنے طلبہ کی حفاظت یقینی بنانی چاہیے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’وہ لڑکی ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج میں پڑھ رہی تھی، تو رات 12:30 بجے وہ باہر کیسے آئی؟ واقعہ جنگل میں پیش آیا، تفتیش جاری ہے۔ کسی کو بخشا نہیں جائے گا، مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی۔‘‘

دیگر ریاستوں میں پیش آئے واقعات کا حوالہ

ممتا بینرجی نے اڑیسہ میں تین ہفتے پہلے سمندر کے ساحل پر تین لڑکیوں کے ساتھ پیش آئے گینگ ریپ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے واقعات منی پور، یوپی، بہار اور اڑیسہ میں بھی پیش آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسے معاملات میں سخت کارروائی کرنی چاہیے۔

پولیس کی کارروائی جاری

پولیس نے اس معاملے میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ یہ ایک نہایت حساس کیس ہے، اور مزید معلومات مناسب وقت پر دی جائیں گی۔ متاثرہ لڑکی کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی بستر پر ہے اور شدید تکلیف میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ، ڈی جی، ایس پی اور کلیکٹر سب ہماری مدد کر رہے ہیں۔

تحفظ کے بنیادی اصولوں کے خلاف

ایک خاتون وزیر اعلیٰ کا دیا گیا یہ بیان نہ صرف متاثرہ خاتون پر الزام لگاتا ہے بلکہ خواتین کے تحفظ کے بنیادی اصول کو بھی مسترد کرتا ہے۔ جس طرح ملائم سنگھ یادو کے بیان کو مجرموں کے تحفظ اور جرم کو معمولی بنانے والا سمجھا گیا تھا، بالکل ویسے ہی ممتا بینرجی کا یہ بیان جنگل راج کو تسلیم کرنے جیسا محسوس ہوتا ہے۔ خاتون وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے بھی حکومت کی تحفظ کی ذمہ داری سے ہٹ کر الزام متاثرہ پر ڈالنا مغربی بنگال کی سیاست میں ایک سنگین تنازعہ کا سبب بن گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

1 hour ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

2 hours ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

12 hours ago