اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارت نے ‘آپریشن سندور’ میں اسرائیلی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ ان میں خاص طور پر باراک-8 میزائل سسٹم اور ہارپی ڈرون شامل تھے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ “ہمارے ہتھیار زمینی سطح پر استعمال کیے گئے اور آپریشن سندور میں انہوں نے شاندار کارکردگی دکھائی۔” ان کا یہ بیان بھارت-اسرائیل دفاعی شراکت داری کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تعاون صرف تکنیکی سپلائی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں مشترکہ ترقی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہے۔
DRDO اور اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کی مشترکہ کوشش
باراک-8 میزائل کو بھارت کے DRDO اور اسرائیل کی ایرو اسپیس انڈسٹریز نے مل کر تیار کیا ہے، جو بھارت کی دفاعی خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔
آپریشن سندور
قابلِ ذکر ہے کہ پہلگام میں دہشت گرد حملے کے بعد، جس میں پاکستان کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے، بھارت نے 7 مئی کو ‘آپریشن سندور’ لانچ کیا۔ اس دوران بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں موجود دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس آپریشن میں برہموس، باراک میزائلز، اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔
بھارت-اسرائیل مشترکہ دفاعی ٹیکنالوجی
باراک-8 میزائل سسٹم
یہ ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والی سطح سے فضا میں مار کرنے والی میزائل (LR-SAM) ہے، جو دشمن کے ہوائی خطرات جیسے لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹر، اینٹی شپ میزائل، اور UAVs کو تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔
اہم خصوصیات:
360 ڈگری کوریج: چاروں طرف سے آنے والے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت۔
ملٹی ٹارگٹ انگیجمنٹ: ایک وقت میں کئی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت۔
100 کلومیٹر تک مارک صلاحیت: دشمن کو دور سے ہی تباہ کرنے کی سہولت۔
آپریشن سندور میں باراک-8 نے پاکستانی میزائلوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی اور بھارتی فضائی حدود کو محفوظ بنایا۔
ہارپی ڈرون – دشمن کی ایئر ڈیفنس کے خاتمے کا ہتھیار
ہارپی ایک لویٹرنگ ایمیونیشن (Loitering Munition) ہے، جسے دشمن کے ریڈار سسٹمز کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ خاص طور پر SEAD (Suppression of Enemy Air Defenses) مشنز کے لیے موزوں ہے۔
اہم صلاحیتیں
ریڈار سیسنگ ٹیکنالوجی: دشمن کے ریڈار سے نکلنے والی لہروں کو پہچان کر ان پر حملہ۔
آٹو ٹارگٹ لاک: ایک بار ہدف کا پتہ لگنے کے بعد خودکار حملہ۔
9 گھنٹے کی فضائی مدت: طویل وقت تک فضا میں رہنے کی صلاحیت۔
آپریشن سندور میں ہارپی ڈرون نے دشمن کے ریڈار نظام کو غیر فعال کر کے بھارتی فضائیہ اور میزائل ڈیفنس کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔
بھارت-اسرائیل دفاعی شراکت اور تزویراتی اہمیت
اسرائیل، بھارت کے بڑے دفاعی شراکت داروں میں چوتھے نمبر پر ہے۔
پچھلے 10 سالوں میں بھارت نے اسرائیل سے تقریباً 2.9 ارب ڈالر کے ہتھیار درآمد کیے ہیں، جن میں ریڈار، UAVs، میزائل سسٹمز، اور الیکٹرانک وارفیئر سازوسامان شامل ہیں۔
بھارت سب سے زیادہ ہتھیار روس سے خریدتا ہے (21.8 ارب ڈالر)، اس کے بعد فرانس (5.2 ارب)، امریکہ (4.5 ارب)، اور پھر اسرائیل (2.9 ارب) کا نمبر آتا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کے “آتم نربھر بھارت” (خود انحصار بھارت) مشن کے تحت، بھارت غیر ملکی انحصار کو کم کرنے اور ملکی دفاعی سازوسامان کی تیاری پر زور دے رہا ہے۔ باراک-8 جیسی منصوبہ بندیاں اس سمت میں سنگِ میل ثابت ہو رہی ہیں۔
بھار ت ایکسپریس اردوو
مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…
وائرل ویڈیو نے ایک بار پھر پولیس محکمہ میں نظم و ضبط اور وردی کے…
اس شلوک کا مفہوم ہے کہ جس شخص کا ذہن تذبذب سے پاک، جو نظم…
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…