نئی دہلی: مالیہ وزیر نرملہ سیتا رامن نے جمعہ کو بھارت کو ایک “مستحکم قوت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت میں بے یقینی کے باوجود بھارت نے اپنے آپ کو مستحکم رکھنے کی صلاحیت ظاہر کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور عدم توازن بین الاقوامی نظام کی شکل بدل سکتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے نئی دہلی میں چوتھے “کوٹیلیہ اکنامک کانکلیو 2025” کے موقع پر کہی، جس کا موضوع تھا “غیر مستحکم دور میں خوشحالی کی تلاش”۔
مالیہ وزیر نے کہا کہ عالمی تجارتی نظام، بین الاقوامی اتحاد، اور مالیاتی نظام بنیادی تبدیلیوں کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، “بین الاقوامی نظام تبدیل ہو رہا ہے، تجارتی بہاؤ نئے راستے اختیار کر رہے ہیں، اتحاد آزمائش میں ہیں، سرمایہ کاری جغرافیائی سیاسی خطوط پر دوبارہ ترتیب پا رہی ہے، اور مشترکہ وعدے نئے سرے سے پرکھے جا رہے ہیں۔”
غیر یقینی صورتحال: ایک نیا معمول
سیتا رامن نے واضح کیا کہ موجودہ دور کو صرف “غیر مستحکم” کہنا کافی نہیں ہوگا کیونکہ “ہر جگہ غیر یقینی صورتحال ایک نئی حقیقت بن گئی ہے”۔ انہوں نے اسے محض ایک عارضی پریشانی نہیں بلکہ ایک “ساختی تبدیلی” قرار دیا، جس سے دنیا کی طاقتوں کے درمیان توازن بدل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی طاقت کا تسلط اب ختم ہو چکا ہے اور ایشیائی ممالک متبادل ترقیاتی ماڈلز اور حکمرانی کے نمونے پیش کر رہے ہیں۔ “ہم ایک عارضی مسئلے کا سامنا نہیں کر رہے ہیں ، بلکہ ایک گہرے ساختی تغیر کا۔ سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کے بعد نیا توازن کیسا ہوگا؟ کون اسے تشکیل دے گا اور کن شرائط پر؟”
بھارت کا مستحکم کردار
سیتا رامن نے بھارت کو اس بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں ایک قابل اعتماد ستون کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے مالی نظم و ضبط، ساختی اصلاحات اور مہنگائی پر قابو پانے کو اس کامیابی کی بنیاد قرار دیا۔ “ہمارا ترقیاتی ماڈل ملکی عوامل پر مضبوطی سے مبنی ہے، جو بیرونی صدموں کے اثرات کو کم کرتا ہے”، وزیر نے زور دیا، قابل ذکر با ت یہ ہے کہ انہوں نے خود اطمینانی سے خبردار بھی کیا۔
ترقی پذیر ممالک کے چیلنجز
وزیر نے ترقی پذیر ممالک کے سامنے موجود کٹھن فیصلوں کی جانب توجہ دلائی، جیسے توانائی کی سلامتی اور توانائی کی تبدیلی کے درمیان توازن، ترقی اور پائیداری، اور جدت و روزگار کے مواقع کے درمیان تضادات۔ انہوں نے کہا کہ “یہ توازن آسان نہیں مگر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا”۔
عالمی عدم توازن اور نئے چیلنجز
سیتا رامن نے کہا کہ عالمی تجارت، مالیات اور توانائی میں پائے جانے والے عدم توازن نے عالمی نظام میں خرابی پیدا کی ہے۔ “ہمیں سوچنا ہوگا کہ ایسا عالمی نظام کیسے بنایا جائے جہاں تجارت منصفانہ ہو، مالیات پیداواری مقاصد کے لیے کام کریں، توانائی سستی اور پائیدار ہو، اور ماحولیاتی کارروائی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔
بدلتی دنیا کے ساتھ ہم آہنگی
سیتا رامن نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل کرنسیاں، جغرافیائی سیاسی تصادم اور دیگر نئے عوامل اقوام کو تیزی سے بدلتے حالات کے مطابق ڈھالنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ “ہمارا صدمے جذب کرنے کا نظام مضبوط ہے اور اقتصادی اثرورسوخ بدل رہا ہے۔ ہمارے فیصلے یہ طے کریں گے کہ آیا ہم اس لچک کو قیادت کی بنیاد بنائیں گے یا صرف غیر یقینی صورتحال کا دفاعی ذریعہ۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور عالمی معیشت نئی ساختی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ نرملہ سیتا رامن کی گفتگو میں بھارت کی مضبوط معیشتی پوزیشن اور اس کی عالمی نظام میں بڑھتی ہوئی اہمیت کا عندیہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے بھارت کی مالی اور ساختی اصلاحات کو ایک اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عوامل ملک کو عالمی بحرانوں اور تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، وزیر نے ترقی پذیر ممالک کی مشکلات اور عالمی سطح پر منصفانہ، پائیدار اور مستحکم نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا، جو کہ بھارت کی عالمی قیادت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…
ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت، عدالت نے الیکشن کمیشن سے دونوں فریقوں کے مفاد…
یمنا ایکسپریس وے پر سلیپر بس میں آگ لگنے سے 9 مسافروں کی موت، متعدد…
ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…
’اڈانی آروگیہ مندر‘ میں جدید میڈیکل کالج، جدید تحقیق اور طبی نگہداشت کی سہولیات ہوں…
پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سیمینار میں لیبر کوڈز کے عملی نفاذ، اجرت،…