پی ایم نریندر مودی نے پیر کے روز حیدرآباد ہاؤس میں فجی کے وزیرِ اعظم سیٹوینی رابوکا سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت اور فجی کے درمیان پرانے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
اس ملاقات کے بعد پی ایم مودی نے کہا:”2014 میں 33 سال بعد کسی بھارتی وزیر عظم نے فجی کی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔ مجھے یہ خوشی اور فخر حاصل ہوا کہ وہ موقع مجھے ملا۔ اس وقت ہم نے ‘فورم فار انڈیا-پیسفک آئی لینڈ کوآپریشن’ یعنی ایف آئی پی آئی سی کا آغاز کیا تھا۔ اس پہل نے نہ صرف بھارت-فجی رشتوں کو بلکہ پورے پیسیفک خطے کے ساتھ ہمارے ربط کو نئی توانائی بخشی ہے۔”
انہوں نے کہا:”بھارت اور فجی کے درمیان ایک گہرا روحانی اور ثقافتی تعلق ہے۔ 19ویں صدی میں بھارت سے گئے 60,000 سے زیادہ گِرْمِٹیا بھائی بہنوں نے اپنی محنت اور پسینے سے فجی کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے فجی کی سماجی اور ثقافتی تنوع کو نئی رنگتیں دیں۔ وہ فجی کی یکجہتی اور سالمیت کے ضامن بنے اور ساتھ ہی اپنی جڑوں سے جُڑے رہے اور اپنی ثقافت کو سنبھالے رکھا۔ فجی کی رامائن منڈلی کی روایت اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ وزیراعظم رابوکا کی جانب سے گِرْمِٹ ڈے کے اعلان کا میں خیر مقدم کرتا ہوں؛ یہ ہمارے مشترکہ تاریخی ورثے کو خراجِ عقیدت ہے۔”
پی ایم مودی نے کہا کہ ہم نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے ایک عملی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ فجی کی سیکورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت سے تربیت اور ساز و سامان میں مدد دی جائے گی۔ سائبر سیکورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کے میدان میں ہم اپنے تجربات شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی پوری انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں تعاون اور حمایت کے لیے ہم وزیر اعظم رابوکا اور فجی حکومت کے شکر گزار ہیں۔
ہم نے یہ طے کیا ہے کہ فجی یونیورسٹی میں ہندی اور سنسکرت پڑھانے کے لیے بھارت سے اساتذہ بھیجے جائیں گے اور فجی کے پنڈت بھارت آ کر تربیت حاصل کریں گے اور گیتا مہوتسو میں بھی حصہ لیں گے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے حیدرآباد ہاؤس میں فجی کے وزیرِ اعظم سیٹوینی رابوکا کا خیرمقدم کیا، جو ہمارے اہم جنوبی عالمی اور ایف آئی پی آئی سی شراکت دار ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ فجی کےوزیر اعظم سیٹوینی رابوکا اتوار، 24 اگست کو نئی دہلی پہنچے۔ بطور وزیر اعظم یہ ان کا بھارت کا پہلا دورہ تھا۔ وزیر اعظم مودی نے ان کے اعزاز میں دوپہر کے کھانے کا اہتمام بھی کیا۔ فجی کے وزیر اعظم نے راج گھاٹ جا کر مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اپنے سرکاری پروگراموں کے علاوہ، وزیرِ اعظم رابوکا دارالحکومت میں انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز میں ’امن کا سمندر‘ کے عنوان سے ایک لیکچر بھی دیں گے۔ یہ دورہ بھارت اور فجی کے درمیان جولائی میں سووا، فجی میں ہوئے چھٹے راؤنڈ کے وزارتی مشاورتی اجلاس کے چند ہفتوں بعد ہو رہا ہے۔ اس مشاورت سے دونوں ممالک کو صحت، تعلیم، مہارت سازی، تجارت و سرمایہ کاری، زراعت، قابل تجدید توانائی، ماحولیاتی تبدیلی اور ثقافتی تبادلے جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کا موقع ملا۔
بھارت ایکسپریس اردو
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کی کارروائی، مرکزی ملزم سمیت 5…
ولادیمیر پوتن یونائیٹڈ رشیا پارٹی کے رکن نہیں ہیں، تاہم وہ 2008 سے 2012 تک…
امت شاہ نے کہا کہ گجرات میں تعاون کی تحریک کو نئی سمت اور رفتار…
تیسرے کوارٹر میں انڈونیشیا نے ایک گول کیا، لیکن بھارت نے اس کے جواب میں…
مکسڈ مارشل آرٹس ان چھ نئے کھیلوں میں شامل ہے جنہیں آیچی-ناگویا ایشین گیمز میں…
3 ان 1 ٹی وی، او ٹی ٹی اور وائی فائی پلان کے نئے اور…