کٹھمنڈو، 5 ستمبر 2025 – بھارت کے چیف جسٹس بی آر گوئی نے نیپال میں منعقد ہونے والے “بھارت-نیپال عدالتی مکالمہ 2025” میں ایک اہم اور تاریخی خطاب کیا۔ یہ اجلاس نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں منعقد ہوا، جس کا موضوع تھا: “عدلیہ کا بدلتا کردار: قانونی ترقی اور بھارتی سپریم کورٹ میں اصلاحات”۔ اس موقع پر جسٹس گوائی نے نہ صرف بھارت-نیپال عدالتی تعلقات کو مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان قانونی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز بھی کیا۔
جسٹس بی آر گوئی نے اپنے خطاب کے آغاز میں بھارت اور نیپال کی عدلیہ کے تاریخی و مضبوط تعلقات کا ذکر کیا۔ انہوں نے اپریل 2025 میں دونوں ممالک کی سپریم کورٹس کے درمیان ہونے والے مفاہمتی یادداشت (MoU) کی جانب اشارہ کیا، جس کا مقصد بہترین عدالتی تجربات کا تبادلہ، مکالمے کو فروغ دینا اور عدالتی تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے۔ نیپال کے چیف جسٹس جسٹس پرکاش من سنگھ راؤت کی دعوت پر یہ دورہ عمل میں آیا، جسے جسٹس گوائی نے نہایت عزت و احترام سے قبول کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دورہ نہ صرف دونوں ممالک کی عدلیہ کے درمیان دوستی کو فروغ دیتا ہے بلکہ جمہوری نظام کو مستحکم کرنے، عدالتی معیار کو بہتر بنانے اور باہمی سیکھنے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
جسٹس گوئی نے واضح کیا کہ آج کی عدلیہ صرف تنازعات کے فیصلے تک محدود نہیں، بلکہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین میں دیے گئے انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے اصولوں کو عملی جامہ پہنائے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اب ایک نگہبان اور مصلح کے طور پر سامنے آئی ہے، جو نہ صرف آئینی تشریحات کے ذریعے حکومت کو راہ دکھاتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مستحکم کرتی ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے بھارتی سپریم کورٹ کے مشہور فیصلوں کا حوالہ دیا، خاص طور پر “بیسک اسٹرکچر تھیوری” یعنی بنیادی ڈھانچے کا نظریہ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار ہے، لیکن وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو ختم نہیں کر سکتی۔ یہ اصول 1973 کے کیشوانند بھارتی بمقابلہ یونین آف انڈیا کے تاریخی مقدمے میں وضع کیا گیا تھا، جسے بعد میں 2006 کے ایم. ناگراج کیس اور 2015 کے NJAC کیس میں مزید تقویت ملی، جہاں عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کیا گیا۔
جسٹس گوئی نے بتایا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے وقت کے تقاضوں کے مطابق آئین کی تشریح کرتے ہوئے متعدد نئے حقوق کو تسلیم کیا ہے۔
1992 میں موہنی جین کیس میں تعلیم کے حق کو زندگی کے حق (آرٹیکل 21) کا حصہ قرار دیا گیا۔
2017 میں رازداری کے حق کو بنیادی حق تسلیم کیا گیا۔
2018 میں زندگی کی حرمت اور وقار کے ساتھ موت کے حق کو بھی آئینی دائرے میں شامل کیا گیا، جس میں مریضوں کی پیشگی ہدایات (Living Will) کو تسلیم کیا گیا۔
جسٹس گوئی نے عدالتی فیصلوں میں مساوات اور سماجی انصاف کے پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
1977 کے کیرالہ کیس اور
1992 کے اندرا ساہنی کیس میں تحفظات (Reservations) کو آئینی قرار دیا گیا۔
2024 میں پنجاب بنام دیویندر سنگھ کیس میں درج فہرست ذاتوں کے اندر ذیلی درجہ بندی (Sub-classification) کی اجازت دی گئی تاکہ سب سے پسماندہ طبقے کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
خواتین کے حقوق کے حوالے سے بھی بھارتی عدلیہ نے کئی اہم اقدامات کیے:
1997 کے ویشاکھا کیس میں کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کے خلاف رہنما اصول دیے گئے، جنہیں بعد میں 2013 کے قانون میں شامل کیا گیا۔
2020 میں، بھارتی سپریم کورٹ نے خواتین فوجی افسران کو مستقل کمیشن دینے کا فیصلہ دیا، جو صنفی مساوات کی جانب ایک اہم قدم تھا۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…