پریم کورٹ نے آج ایک تاریخی اور فیصلہ کن اقدام میں دہلی پولیس کے سابق کمشنر اور سی بی آئی کے سابق جوائنٹ ڈائریکٹر نیرج کماراور ان کے ماتحت سابق اے سی پی ونود پانڈے کی جانب سے دائر کردہ چار اپیلیں مسترد کر دیں۔ ان اپیلوں کے ذریعے انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کے جون 2006 کے دو فیصلوں کو چیلنج کیا تھا۔
ہائی کورٹ نے ان دونوں پولیس افسران پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سابق انکم ٹیکس افسر اشوک کمار اگروال کے خلاف جاری ایک کیس کی تفتیش کے دوران دستاویزات میں رد و بدل کی، اور ان کے چھوٹے بھائی وجے اگروال کو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر بلایا، حراست میں رکھا اور نیراج کمار کے خلاف دی گئی جھوٹی گواہی واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا۔ ہائی کورٹ نے ان الزامات کی بنیاد پر ان کے خلاف دو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا اور مجرمانہ توہین عدالت کی کارروائی بھی شروع کی تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ سال 2000 میں کیے گئے قابلِ تعزیر جرائم کی گزشتہ 25 سالوں میں تفتیش ممکن نہیں ہو سکی، حالانکہ دونوں افسران اس وقت سی بی آئی میں ڈیپوٹیشن پر تھے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ اگر یہ دونوں افسران تحقیقات میں تعاون نہ کریں، تو تحقیقات کرنے والے افسر (جو دہلی پولیس کا اے سی پی رینک کا ہوگا) ان کو گرفتار کرنے کا اختیار رکھتا ہے، اور اگر ضرورت ہو تو حراستی تفتیش بھی ممکن ہوگی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ سی بی آئی میں خدمات انجام دینے والے سینئر پولیس افسران کے خلاف دو مجرمانہ مقدمات کی تحقیقات کو اس سطح پر قانونی جواز ملا ہے، جس سے انصاف کے ایک طویل التوا میں پڑے معاملے میں پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بہار کے ضلع ویشالی میں راگھوپور کے قریب کشتی بے قابو ہو کر الٹ گئی۔…
کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…
دہلی پولیس نے جنتر منتر کے علاقے میں بغیر اجازت داخل ہونے کے الزام میں…
تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…
وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…
رشی سونک نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی، آج نئی…