سیاست

Cabinet approves Rs 2,000 crore grant-in-aid for NCDC: کابینہ نے این سی ڈی سی کے لیے 2,000 کروڑ روپے کی گرانٹ امداد کو منظوری دی

مرکزی کابینہ نے جمعرات کو نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی) کو چار سال کے لیے 2,000 کروڑ روپے کی گرانٹ امداد دینے کی منظوری دے دی۔ اس اقدام سے ادارے کو کوآپریٹو سوسائٹیوں کو قرض فراہم کرنے کے لیے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ مرکزی کابینہ نے 2025-26 سے 2028-29 تک کے چار سالہ عرصے (ہر سال 500 کروڑ روپے) کے لیے 2,000 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ مرکزی شعبے کی اسکیم ’’این سی ڈی سی کو گرانٹ امداد‘‘ کو منظوری دے دی ہے۔

اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے صحافیوں کو بتایا:”ایک اچھے مالیاتی ماڈل کو مزید تقویت دینے کے لیے، کابینہ نے این سی ڈی سی کے لیے چار سال کی مدت کے لیے 2,000 کروڑ روپے کی سرمایہ گرانٹ امداد کی منظوری دی ہے۔”

وزیر نے کہا کہ اس مالی امداد سے این سی ڈی سی مزید قرض دینے کے لیے 20,000 کروڑ روپے کا اضافی سرمایہ اکٹھا کر سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال این سی ڈی سی کی قرض واپسی کی شرح 99.8 فیصد ہے اور غیر فعال قرضے (این پی اے) صفر ہیں۔

ایک بیان کے مطابق اس فیصلے سے ڈیری، لائیو اسٹاک، ماہی گیری، شوگر، ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، اسٹوریج اور کولڈ اسٹوریج جیسے مختلف شعبوں میں کام کرنے والی 13,288 کوآپریٹو سوسائٹیوں کے تقریباً 2.9 کروڑ اراکین کو فائدہ ہونے کی امید ہے۔

بیان میں کہا گیا:”این سی ڈی سی کو 2025-2026 سے 2028-2029 تک 2,000 کروڑ روپے کی گرانٹ امداد کے تحت، این سی ڈی سی کھلی مارکیٹ سے چار سالوں میں 20,000 کروڑ روپے اکٹھا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔”

این سی ڈی سی اس فنڈ کا استعمال کوآپریٹو سوسائٹیوں کو نئی منصوبہ جات کے قیام/پلانٹس کی توسیع اور ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات کے لیے قرض فراہم کرنے میں کرے گا۔

بھارت میں 8.25 لاکھ سے زائد کوآپریٹو سوسائٹیاں ہیں جن کے 29 کروڑ سے زائد اراکین ہیں، اور 94 فیصد کسان کسی نہ کسی طور پر کوآپریٹو سوسائٹیوں سے وابستہ ہیں۔

اس فیصلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے حکومت نے کہا کہ این سی ڈی سی اس اسکیم کو نافذ کرنے والا ادارہ ہوگا۔ یہ قرض جاری کرے گا، منصوبوں کے نفاذ کی نگرانی کرے گا اور جاری کردہ قرضوں کی وصولی کو بھی یقینی بنائے گا۔

بیان میں کہا گیا:”ان کوآپریٹو سوسائٹیوں کو فراہم کی گئی رقوم سے آمدنی پیدا کرنے والے سرمایہ جاتی اثاثے قائم ہوں گے اور انہیں ورکنگ کیپیٹل کے طور پر درکار لیکویڈیٹی مہیا کی جائے گی۔”

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Air India Flight Suspension: سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئر انڈیا کی سعودی عرب آنے اور جانے والی پروازیں 14 نومبر تک معطل

یہ تازہ ایڈوائزری اس اعلان کے صرف چھ دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں…

9 hours ago

The BJP’s New Balance in UP: یوگی کی زمین، مودی کا آسمان: یوپی میں بی جے پی کا نیا سیاسی توازن

امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…

9 hours ago

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

10 hours ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

10 hours ago