منگل کی رات پاکستان کے شہر کوئٹہ میں بلوچ نیشنل پارٹی کی ایک ریلی منعقد کی گئی۔ ریلی کے ختم ہوتے ہی ایک بم دھماکہ ہوا جس میں 14 افراد جاں بحق ہو گئے، جب کہ 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن کا علاج جاری ہے۔ زخمیوں میں سابق رکنِ اسمبلی احمد نواز اور پارٹی رہنما موسیٰ بلوچ بھی شامل ہیں۔رپورٹس کے مطابق یہ ریلی بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ سردار عطااللہ مینگل کی چوتھی برسی کے موقع پر شاہوانی اسٹیڈیم میں نکالی گئی تھی۔ ریلی کے بعد پارکنگ ایریا میں خودکش حملہ ہوا۔خودکش حملہ آور نے مارچ میں لک درہ پر ہونے والے حملے کی طرز پر دھماکہ کرنے سے پہلے مینگل کے جانے کا انتظار کیا۔ تاحال کسی بھی تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور بغیر داڑھی والا تھا اور اس کی عمر 35 سے 40 سال کے درمیان تھی۔ اس کے پاس تقریباً 8 کلو وزنی بارودی مواد تھا، جس میں بال بیئرنگ بھی شامل تھے۔
14 ہلاکتوں کی تصدیق
میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر کوئٹہ سول اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہلاکتوں کی تصدیق کوئٹہ سول اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ نے کی ہے۔ اس خودکش حملے میں سابق ایم پی اے احمد نواز اور پارٹی رہنما موسیٰ بلوچ بھی زخمی ہوئے، جن کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کی مذمت
بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے اس دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کی ہے اور سخت کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ انہوں نے اس خودکش حملے کو دشمنوں کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کی ناپاک سازشیں کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔ ہم کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کریں گے۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے، اور دشمنوں کو امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
14 کارکن ہلاک ہوئے – ایڈووکیٹ ساجد
اس حوالے سے بی این پی-ایم کے قائم مقام صدر ایڈووکیٹ ساجد ترین نے حملے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں پارٹی کے 14 کارکن جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ کئی دیگر زخمی بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ حملہ پارٹی کے بانی عطااللہ مینگل کی برسی کے موقع پر منعقدہ ریلی میں کیا گیا۔
پارکنگ ایریا میں دھماکہ
بی این پی-ایم کے رہنما ظہور ترین نے بتایا کہ یہ دھماکہ اسٹیڈیم کے پارکنگ ایریا میں ہوا۔ ان کے مطابق پہلے ہی دہشتگرد حملے کا خدشہ تھا، اسی لیے انہوں نے پہلے سے ہی انتظامیہ سے سیکورٹی کی درخواست کی تھی، لیکن انتظامیہ نے ان کی بات پر توجہ نہیں دی۔
ظہور ترین نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حکومت نے اس حملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور عوام سے افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
کولکاتا کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے بین الاقوامی دوستانہ میچ میں برازیل نے…
وزیر اعظم کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پی ایم مودی کے…
امت شاہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ 31 دسمبر 2029 تک مدھیہ پردیش…
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے بھارت اور برازیل کے درمیان مقابلے…
ہفتہ کy کے روز بھارت کی مردوں کی ہاکی ٹیم نے ککامی گاہارا کے گیفو…
اسپتال سے پہلی بار کیپٹن اسمت مچھار کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ تصاویر میں…