بلوچ نیشنل موومنٹ(بی این ایم) کے فارن ڈیپارٹمنٹ کے کوآرڈینیٹر اور سینٹرل کمیٹی کے رکن نیاز بلوچ نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) کے 58ویں اجلاس کے دوران بلوچستان میں انسانی حقوق کی تشویشناک صورتحال پر روشنی ڈالی۔اپنی مداخلت میں نیاز نے بنیادی آزادیوں کی شدید خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی ریاست کی طرف سے سیاسی اختلاف رائے کے منظم جبر کی طرف توجہ دلائی۔
ان کے اراکین کو من مانی طور پر حراست میں لیا جاتا ہے
انہوں نے کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن-آزاد (BSO-A) اور BNM جیسی سیاسی تنظیموں کو مسلسل ظلم و ستم کا سامنا ہے، ان کے اراکین کو من مانی طور پر حراست میں لیا جاتا ہے، ہراساں کیا جاتا ہے اور خاموش کر دیا جاتا ہے۔
نیازبلوچ نے صورتحال کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے کہا، “جبری گمشدگیاں بلوچستان میں جبر کا ایک منظم ہتھیار بن چکی ہیں۔”انہوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رکن بیبرگ زہری اور ان کے بھائی ہمل زہری جو کہ ایک سائنسدان ہیں، کی حالیہ گمشدگیوں پر روشنی ڈالی۔
قابل ذکر بات یہ ہےکہ ایک ممتاز ماہر نفسیات اور بولان میڈیکل کالج کے وائس پرنسپل الیاس بلوچ بھی قمبرانی خاندان کے ایک درجن سے زائد افراد کے ساتھ جبری طور پر لاپتہ ہونے والوں میں شامل تھے۔ انسانی حقوق کی کارکن سعیدہ بلوچ اور ان کی بہن کو مبینہ طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔
نیازبلوچ نے نوٹ کیا کہ ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعے ماورائے عدالت قتل انسانی حقوق کے سنگین بحران کو مزید واضح کرتے ہیں۔ انہوں نے نال میں بی ایس او آزاد کے لاپتہ چیئرمین زاہد بلوچ کے بھائی شاہ جہاں نیازبلوچ کے بہیمانہ قتل کو نیازبلوچ خاندانوں کو دی جانے والی اجتماعی سزا کی مثال کے طور پر حوالہ دیا۔
نیازبلوچ نے زور دے کر کہا کہ “یہ قتل اور جبری گمشدگیاں الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں، بلکہ نیازبلوچ آبادی کو دہشت زدہ کرنے کی دانستہ ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں۔”
بی این ایم اور دیگر نیازبلوچ قوم پرست گروپوں نے طویل عرصے سے پاکستانی حکومت پر جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ اور دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا ہے تاکہ خطے میں سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو خاموش کرایا جا سکے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، لیکن پاکستانی حکام اس میں ملوث ہونے کی تردید کرتے رہتے ہیں۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ انسانی حقوق کے اداروں اور کارکنوں کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، جو عالمی برادری پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے فوری کارروائی کرے۔
بھارت ایکسپریس
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور…
میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…