رِیلائنس گروپ کے چیئرمین انل امبانی دہلی میں واقع ای ڈی (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ) کے دفتر پہنچ چکے ہیں۔ یہاں ان سے 17000 کروڑ روپے کے لون فراڈ معاملے کی تفتیش کے سلسلے میں سوالات کیے جائیں گے۔ انل امبانی کو گزشتہ ہفتے ای ڈی کی مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے تحت طلب کیا گیا تھا۔ جن کمپنیوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، ان میں ری لائنس ہوم فنانس لمیٹڈ (RHFL)، ریلائنس کمرشل فنانس لمیٹڈ (RCFL) اور ری لائنس کمیونیکیشنز (RCom) شامل ہیں۔
جانئے کیا ہیں الزامات ؟
الزام ہے کہ انل امبانی کے ریلائنس گروپ کی ان کمپنیوں نے بینکوں سے ہزاروں کروڑ روپے کا قرض لیا، لیکن اس رقم کا درست استعمال نہیں کیا۔ یعنی، جس مقصد کے لیے قرض لیا گیا تھا، اسے پورا نہیں کیا گیا بلکہ شیل کمپنیوں کے ذریعے اس پیسے کو ادھر اُدھر گھمایا گیا۔ اس کے علاوہ، ای ڈی کی تفتیش میں کئی فرضی دستاویزات اور بینک گارنٹی کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
ای ڈی کی یہ تفتیش منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (PMLA) کے تحت کی جا رہی ہے اور یہ ان قرضوں سے متعلق ہے جو تقریباً 20 نجی و سرکاری بینکوں سے لیے گئے تھے، اور جو اب نان پرفارمنگ ایسیٹس (NPA) میں بدل چکے ہیں۔ ای ڈی کے مطابق، RHFL پر 5901 کروڑ روپے، RCFL پر 8226 کروڑ روپے سے زائد اور RCom پر تقریباً 4105 کروڑ روپے کا بقایا ہے۔<
ای ڈی کا اگلا قدم کیا ہوگا؟
معاملے سے جڑے ذرائع نے “دی اکنامک ٹائمز” کو بتایا ہے کہ ای ڈی آنے والے دنوں میں بینکوں کے سینئر افسران کو بلا کر پوچھ گچھ کر سکتی ہے، جیسے کہ قرض دینے کا مکمل عمل، ڈیفالٹ ہونے کی مدت، اور اس کے بعد کیا کارروائی کی گئی۔ ریلائنس گروپ کی کمپنیوں کو قرض دینے والے بینکوں میں یَس بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، ایکسس بینک، ICICI بینک، HDFC بینک، بینک آف انڈیا، یوکو بینک اور پنجاب اینڈ سندھ بینک شامل ہیں۔
ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ET کو بتایا:
“ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بینکوں نے ڈیفالٹ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کیا کارروائی کی، اگر کی بھی ہے تو۔ کیا انہوں نے کسی تحقیقاتی ایجنسی میں ان کمپنیوں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کے لیے کوئی شکایت درج کرائی؟”
انل امبانی سے پوچھ گچھ کیوں ہورہی ہے ؟
ای ڈی نے حال ہی میں اس معاملے میں BTPL نامی کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر پارتھ سارتھی بسوال کو گرفتار کیا ہے۔ تفتیش میں پتہ چلا کہ اس کمپنی کو جعلی بینک گارنٹی بنانے کے لیے ری لائنس پاور سے تقریباً 5.4 کروڑ روپے ملے تھے۔ دراصل ریلائنس پاور نے ایک سرکاری ٹینڈر میں حصہ لیا تھا، جس کے لیے بینک گارنٹی دینا لازمی تھا۔
اسی مقصد کے لیے BTPL سے رابطہ کیا گیا تھا۔ اس کمپنی نے جعلی بینک گارنٹی کو اصلی ظاہر کرنے کے لیے SBI کے آفیشل ڈومین سے مشابہ ایک فرضی ڈومین کا استعمال کیا تھا۔
ای ڈی اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس پورے فراڈ میں کس کا کتنا کردار تھا، پیسہ کہاں سے آیا، کہاں اور کیسے منتقل ہوا، اور اس میں کن لوگوں کی ملی بھگت شامل تھی۔ چونکہ معاملے میں ریلائنس پاور کا بھی نام آیا ہے اور کمپنی سے جڑے کئی لین دین کی تفتیش ہو رہی ہے، اسی لیے ای ڈی نے انل امبانی کو طلب کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…
فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…
’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…
راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…