فائل فوٹو۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ جب تک سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی جائے گی، تمام برطرف اساتذہ کو تب تک تنخواہ ملے گی۔ ممتا بنرجی نے احتجاج کرنے والے اساتذہ کے ساتھ نبنا میں ایک میٹنگ کی اور فون پر انھیں بتایا کہ ریاستی حکومت اہل اور نااہل امیدواروں میں امتیاز نہیں کرے گی اور گروپ سی کے عملے کو 25,000 روپے ملیں گے، جب کہ گروپ ڈی کے عملے کو 20,000 روپے ملیں گے۔
ممتا بنرجی نے مزید کہا ’’نظرثانی کی درخواست اگلے مہینے سپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی اور احتجاج کرنے والے اساتذہ کو تب تک کی ان کی تنخواہیں مل جائیں گی۔‘‘ واضح رہے کہ ہزاروں اساتذہ نے، جن کی تقرری سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد منسوخ کر دی گئی ہے،منگل کو سالٹ لیک میں واقع مغربی بنگال اسکول سروس کمیشن (WBSSC) کے ہیڈکوارٹر کے باہر رات بھر احتجاج جاری رکھا۔
ممتابنرجی نے کہا ’’آپ کو اس بات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کون داغدار ہے اور کون نہیں۔ آپ کو صرف اس بات کی فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا آپ کی نوکری ہے اور کیا آپ کو آپ کی تنخواہ وقت پر مل رہی ہے۔ داغدار اور غیر داغدار اساتذہ کی شناخت کرنے والی فہرست حکومت اور عدالتوں کے پاس رہتی ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے اساتذہ کو یہ بھی یقین دلایا کہ ان کی ملازمتیں محفوظ ہیں اور وہ اسکول واپس جائیں اور کلاسیں دوبارہ شروع کریں۔ انھوں نے کہا ’’میں نے اس بارے میں کئی بار بات کی ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں اپنی نوکری کھونے والے گروپ سی اور گروپ ڈی کے عملے کے لیے بھی نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی۔ انھوں نے کہا ’’تب تک ہم پر اپنا اعتماد قائم رکھیں‘‘۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…
وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…
ڈاکٹر کا الزام ہے کہ فلیٹ میں اتولیا سمیت 12 افراد موجود تھے۔ جیسے ہی…
نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…
یو پی ایس سی نے واضح کیا ہے کہ انٹرویو کی تاریخ یا وقت میں…
وزیراعظم مودی کے نام لکھے گئے خط میں ماہر تعلیم اور ممتاز دانشور پروفیسر اخترالواسع…