قومی

Azam Khan Case: رامپور میں یوگی حکومت کا بڑا فیصلہ، اعظم خاں کے مقدمات میں سرکاری پیروی کرنے والے 6 سرکاری وکلاء کو ہٹا دیا گیا

اتر پردیش کا ضلع رامپور ایک بار پھر سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خاں کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے اچانک ضلع رامپور سے چھ سرکاری وکلاء کو اپنے پینل سے ہٹا دیا ہے۔

18 جون کو خط، 19 جون کو حکم، 20 جون کو معاملہ منظر عام پر آیا

اس کارروائی کی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 18 جون کو محکمۂ انصاف کے خصوصی سکریٹری (تقرری) کی جانب سے ضلع مجسٹریٹ رامپور کو ان وکلاء کو ہٹانے کا خط بھیجا گیا، 19 جون کو دوپہر میں یہ خط موصول ہوا اور اسی رات ضلع مجسٹریٹ نے تمام وکلاء کو عہدوں سے سبکدوش کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ 20 جون کو یہ حکم نامہ عوامی سطح پر سامنے آیا۔ برطرف کیے گئے وکلاء میں ضلع سرکاری فوجداری وکیل امیت کمار سکسینہ، نامزد دیوانی وکیل سندیپ سکسینہ، اسسٹنٹ ضلع سرکاری فوجداری وکیل پرمود ساگر، اوم پرکاش لودھی، پرتاپ سنگھ موریہ اور امیت کمار شامل ہیں۔ تمام وکلاء کو فوری اثر کے ساتھ ذمہ داریوں سے آزاد کر دیا گیا ہے۔

اعظم خاں، عبداللہ اعظم اور جوہر یونیورسٹی سے جڑے مقدمات پر نظر

انتظامی اور قانونی حلقوں میں اس اجتماعی برطرفی کو اعظم خاں اور ان کے خاندان سے وابستہ مقدمات سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہٹائے گئے کئی وکلاء عدالت میں ریاستی حکومت کی جانب سے اعظم خاں، ان کے بیٹے عبداللہ اعظم، اہلیہ تنزین فاطمہ اور جوہر یونیورسٹی اراضی قبضہ معاملے سمیت مختلف مقدمات کی پیروی کر رہے تھے۔ اعظم خاں اور ان کے اہل خانہ کے خلاف مختلف نوعیت کے 150 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ ان میں مبینہ فرضی پیدائشی سرٹیفکیٹ، دشمن جائیداد، نفرت انگیز تقریر، زمین پر قبضہ، ڈکیتی اور چوری جیسے فوجداری و دیوانی مقدمات شامل ہیں۔ ان مقدمات میں ریاست کی نمائندگی کرنے والے سرکاری وکلاء کا کردار انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔

عدالتی ریلیف کے بعد حکومتی ناراضی کی قیاس آرائیاں، نئے پینل کی تیاری

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں اعظم خاں کو کئی مقدمات میں عدالتوں سے ریلیف ملا ہے۔ بعض معاملات میں ضمانت منظور ہوئی جبکہ ایک مقدمے میں سزا بھی کالعدم قرار دی جا چکی ہے۔ اسی وجہ سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ حکومت حساس مقدمات میں زیادہ مؤثر پیروی کے لیے نیا قانونی پینل تشکیل دینا چاہتی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق چھ وکلاء کی اجتماعی برطرفی کے بعد حکومت جلد ہی رامپور میں نئے سرکاری وکلاء کی تقرری کر سکتی ہے۔ اس فیصلے نے سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے اور اب سب کی نظریں حکومت کے اگلے قدم پر مرکوز ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Vande Mataram: ’وندے ماترم‘ گیت نے ہندو مسلم برادری کے درمیان بڑا فرق پیدا کیا، چنڈی گڑھ میں منعقدہ سیمینار میں مقررین کا اظہار خیال

سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…

13 minutes ago

INDIA Bloc Meeting: انڈیا بلاک کے لیڈر پھر ہوں گے ایک پلیٹ فارم پر! 30 ستمبر کو میٹنگ، CEC گیانیش کمار کے خلاف حکمتِ عملی پر ہوگی بحث

SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…

47 minutes ago

SIR Voter List Revision: ووٹر لسٹ میں ’صفائی‘ یا ووٹ کے حق پر بحران؟ جانیے کیا ہے ایس آئی آر تنازع اور کیوں اٹھ رہے ہیں سوالات

بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…

1 hour ago

Milk Price Hike: مہنگائی کی زوردار مار! ٹونڈ ملک سے دہی تک سب کچھ مہنگا، جانیے تازہ ریٹ

جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…

2 hours ago