نئی دہلی: راجدھانی دہلی کے پرگتی میدان میں عالمی کتاب میلے کا شاندار آغاز ہو چکا ہے، جہاں بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے زیر اہتمام ’’بھارت لٹریچر فیسٹیول (بی ایل ایف)‘‘ کے چھٹے مرحلے کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس ادبی میلے میں نوجوان مصنفین، طلبہ اور ادب سے محبت رکھنے والوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کی سب سے بڑی کشش بھارت ایکسپریس کے چیئرمین، سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف اُپیندر رائے رہے، جنہوں نے سامعین سے براہِ راست مکالمہ کرتے ہوئے زندگی اور کامیابی کے گہرے اسباق بیان کیے۔
زندگی میں سادگی کا راستہ اپنائیں
اُپیندر رائے نے نوجوان مصنفین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زندگی میں سادگی اپنانے سے راستے آسان ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کامیابی کا حقیقی راستہ دولت کے پیچھے بھاگنے میں نہیں بلکہ اقدار اور اصولوں کو اختیار کرنے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دولت خود بخود محنت اور صحیح سمت میں سوچ کے نتیجے میں حاصل ہو جاتی ہے، لیکن اگر اقدار ختم ہو جائیں تو کامیابی بے معنی ہو جاتی ہے۔
زیادہ چالاکی مواقع چھین لیتی ہے: سی ایم ڈی اوپیندر رائے
سی ایم ڈی اُپیندر رائے نے ایک متاثر کن کہانی کے ذریعے زیادہ چالاکی کے نقصانات بیان کیے۔ انہوں نے ساہُوکار اور پتھر بیچنے والے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح زیادہ چالاکی اور لالچ کے باعث ساہوکار ایک قیمتی ہیرا گنوا بیٹھتا ہے، جبکہ ایک سادہ انسان نے وہی ہیرا معمولی قیمت پر حاصل کر لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ چالاکی وقتی فائدہ دکھا سکتی ہے، مگر درحقیقت یہ انسان سے بڑے مواقع چھین لیتی ہے، جبکہ سادگی اور دیانت کامیابی کو قریب لے آتی ہے۔
سب سے بڑی قدر آزادی
جدید زندگی کی قدروں پر بات کرتے ہوئے اُپیندر رائے نے کہا کہ آج کے دور میں سب سے بڑی قدر ’’آزادی‘‘ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اظہارِ رائے، تخلیقی سوچ اور اپنی شعوری آنکھ سے دنیا کو دیکھنے کی آزادی ہی کسی بھی معاشرے کو ترقی کی راہ پر لے جاتی ہے۔ ان کے مطابق جہاں آزادی موجود ہو، وہیں جدید اقدار پنپتی ہیں۔
دولت نہیں، بدھ اور مہاویر کو چنیں
خطاب کے دوران اُپیندر رائے نے دولت اور روحانی قدروں کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک پلڑے میں دنیا بھر کی دولت اور دوسرے میں بدھ، مہاویر، کبیر یا میرا ہوں، تو وہ بغیر کسی تردد کے روحانی قدروں کو چنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دولت محض ایک بائی پروڈکٹ ہے، مگر بدھ اور مہاویر جیسے عظیم انسان صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتے ہیں۔
سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے بچوں کی دو حیرت انگیز خوبیاں بتائیں
آخر میں بچوں کی فطرت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر بچے میں دو خوبیاں فطری طور پر ہوتی ہیں، وہ بغیر کسی وجہ کے مصروف رہتا ہے اور بغیر کسی سبب کے خوش رہتا ہے۔ مگر جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا ہے، انا اور خود غرضی اس کی خوشی چھین لیتی ہے۔ ان کے یہ خیالات سامعین کے لیے نہایت متاثر کن اور سبق آموز ثابت ہوئے۔
بھارت ایکسپریس اردو
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…