قومی

Saudi Worker Body Reaches Ranchi: سعودی عرب سے 120 دن بعد لاش وطن پہنچی، معاوضے کی یقین دہانی نہ ملنے پر خاندان کا لینے سے انکار

سعودی عرب کے شہر جدہ میں جھارکھنڈ کے ضلع گریڈیہ کے رہائشی وجے کمار مہتو کی موت کے تقریباً 120 دن بعد ان کی لاش بھارت پہنچ گئی، تاہم اہل خانہ نے کمپنی کی جانب سے معاوضے کی تحریری یقین دہانی نہ ملنے تک لاش لینے سے انکار کر دیا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ جذباتی طور پر ٹوٹ چکے ہیں، لیکن بچوں اور بزرگ والدین کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے واضح یقین دہانی ضروری ہے۔ وجے کمار مہتو اکتوبر 2025 میں جدہ میں ایک ٹرانسمیشن لائن پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔ 15 اکتوبر کو مبینہ طور پر پولیس اور ایک گروہ کے درمیان فائرنگ کے دوران وہ کراس فائر میں پھنس گئے اور شدید زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں علاج کے دوران ان کا انتقال ہو گیا۔ واقعے کے بعد قانونی اور سفارتی کارروائیوں کے باعث میت کی واپسی میں تاخیر ہوئی اور تقریباً چار ماہ بعد لاش بھارت لائی جا سکی۔

ہفتہ کے روز وجے کی میت ممبئی کے راستے رانچی ایئرپورٹ پہنچی، جہاں سے اسے راجندر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (رِمز) کی مردہ خانے میں رکھا گیا۔ تاہم اہل خانہ نے واضح کیا کہ جب تک کمپنی معاوضے کے بارے میں تحریری طور پر یقین دہانی نہیں کراتی، وہ لاش وصول نہیں کریں گے۔ متوفی کے سالے رام پرساد مہتو نے کہا کہ کمپنی کی طرف سے معاوضے کے حوالے سے کوئی صاف جواب نہیں دیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم وجے سے بے حد محبت کرتے ہیں، مگر ان کے پیچھے بیوی، پانچ اور تین سال کے دو بیٹے اور ضعیف والدین ہیں، جن کے مستقبل کا سوال بھی ہمارے سامنے ہے۔

خاندان کا کہنا ہے کہ وہ صرف زبانی وعدوں پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ رام پرساد مہتو کے مطابق، ”جب تک کمپنی واضح طور پر تحریری یقین دہانی نہیں دیتی کہ کتنا معاوضہ دیا جائے گا، ہم لاش قبول نہیں کریں گے۔ ہمیں مستقبل کے لیے تحفظ چاہیے“۔ دوسری جانب جھارکھنڈ حکومت نے فوری طور پر پانچ لاکھ روپے کی مالی امداد دینے کی پیشکش کی ہے۔ تاہم خاندان کا مؤقف ہے کہ ریاستی امداد اپنی جگہ، لیکن اصل ذمہ داری کمپنی پر عائد ہوتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کمپنی قانونی طور پر اپنی ذمہ داری تسلیم کرے اور معاوضے کی رقم اور طریقہ کار واضح کرے۔

ریاست کے مائیگرنٹ کنٹرول سیل کی سربراہ شکھا لاکڑا نے بتایا کہ معاملہ سعودی عرب کی عدالت میں زیر سماعت ہے اور حتمی معاوضہ عدالتی فیصلے پر منحصر ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، محکمہ کو سفارت خانے سے اطلاع ملنے کے بعد میت کی واپسی میں مدد کی گئی، تاہم غیر ملکی آجر اور بیرونی دائرہ اختیار کے معاملات میں ریاست کا کردار زیادہ تر رابطہ کاری تک محدود رہتا ہے۔ فی الوقت مقامی انتظامیہ خاندان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، لیکن اہل خانہ معاوضے کے حوالے سے واضح اور تحریری یقین دہانی ملنے تک اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ یہ معاملہ نہ صرف بیرون ملک کام کرنے والے مزدوروں کی سلامتی بلکہ ان کے حقوق اور معاوضے کے نظام پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Mamata Banerjee’s statement: ابھجیت دیپکے کو حراست میں لیے جانے پر ممتا بنرجی بولیں، ’گھبراؤ مت، ابھی دیدی آپ کے ساتھ ہے‘

ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’دہلی پولیس…

1 hour ago

Union Home Minister Amit Shah: پنجاب میں منشیات اور گینگسٹر ازم پر گھری ’عآپ‘ حکومت، وزیر داخلہ امت شاہ نے قانون و انتظام پر اٹھائے سوالات

پنجاب میں منشیات کے کاروبار، گینگسٹر ازم اور بڑھتے جرائم کو لے کر سیاسی گھمسان…

2 hours ago

IND vs ZIM Series: صرف 133 رنز کی دوری، ٹوٹ جائے گا دنیا بھر کا ریکارڈ! اسمرتی مندھانا کے تاریخی کارنامے پر سب کی نظریں

بھارتی کپتان اسمرتی مندھانا ٹی 20 انٹرنیشنل میں 5,000 رنز مکمل کرنے سے صرف 133…

2 hours ago

Bihar MLC Election: پی کے کی انٹری اور اننت سنگھ کی بغاوت، بہار قانون ساز کونسل کی 8 نشستوں پر انتخابات سے پہلے سیاسی ہلچل تیز

پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی نے تمام 8 نشستوں پر امیدوار اتارے ہیں، پٹنہ…

3 hours ago