نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے مبینہ متنازع ’مِیا‘ بیان کے خلاف خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی جانچ اور ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ والی متعدد عرضیوں پر سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے عرضی گزاروں کو متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹس کے اختیارات کو کمزور نہ کیا جائے اور اگر عرضی گزار ہائی کورٹ سے ملنے والی راحت سے مطمئن نہ ہوں تو وہ دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔
ہائی کورٹ کو جلد سماعت کی ہدایت
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ مختلف سرکاری عہدیداروں کے خلاف ہدایات طلب کی گئی ہیں اور یہ تمام معاملات متعلقہ دائرہ اختیار رکھنے والی ہائی کورٹ کے ذریعے مؤثر طور پر نمٹائے جانے چاہییں۔ عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا: ’’ہم کسی رائے کا اظہار کیے بغیر عرضی گزاروں کو متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی آزادی دیتے ہیں۔ چونکہ متعلقہ حکام نے معاملے کی فوری سماعت کی ضرورت ظاہر کی ہے، اس لیے ہم متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کرتے ہیں کہ جلد از جلد سماعت کو یقینی بنایا جائے۔‘‘
جمعیۃ علماء ہند کی عرضی
اس سے قبل جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی، جس میں الزام لگایا گیا کہ آسام کے وزیراعلیٰ نے مسلمانوں کے لیے تضحیک آمیز لفظ استعمال کیا۔ جمعیۃ کے صدر مولانا محمود مدنی کی جانب سے دائر عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ’مِیا‘ آسام میں مسلمانوں کے لیے توہین آمیز اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور کسی اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے ایسا بیان محض سیاسی بیان بازی یا آزادیٔ اظہار کے دائرے میں نہیں آسکتا۔ تنظیم کے مطابق، ایسے بیانات دانستہ طور پر نفرت پھیلانے، دشمنی پیدا کرنے اور ایک پوری برادری کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں۔
آئینی اقدار اور رہنما خطوط کا مطالبہ
عرضی میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ آئینی عہدیداران کے لیے رہنما خطوط طے کیے جائیں تاکہ کوئی بھی اپنے منصب کا سہارا لے کر فرقہ وارانہ نفرت نہ پھیلا سکے اور کسی طبقے کو نشانہ نہ بنا سکے۔ درخواست میں 27 جنوری 2026 کو دی گئی ایک تقریر کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ چار سے پانچ لاکھ ’مِیا‘ ووٹروں کو ووٹر فہرست سے خارج کیا جائے گا اور ایک مخصوص برادری کے خلاف براہ راست موقف اختیار کیا گیا۔ جمعیۃ کے مطابق اس نوعیت کے بیانات مساوات، بھائی چارے، سیکولرازم اور انسانی وقار جیسے آئینی اصولوں کے منافی ہیں اور انہیں آزادیٔ اظہار کے نام پر تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ یہ عرضی ایڈووکیٹ فرخ رشید کے ذریعے دائر کی گئی تھی، جبکہ تحریری دلائل سینئر وکیل ایم آر شمشاد نے تیار کیے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…
بھارت اور برازیل کے درمیان ہونے والے فٹبال میچ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے…
وزیراعظم نریندر مودی نے پی ایم او کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا،…
اساتذہ اور گریجویٹ حلقوں کی 8 نشستوں پر 23 اکتوبر کو ووٹنگ، کانگریس نے 5…