قومی

Women Reservation Bill: خواتین ریزرویشن، حلقہ بندی اور نشستوں میں اضافہ پر سیاست گرم، اپوزیشن کی کل اہم میٹنگ، حکومت کو گھیرنے کی تیاری

نئی دہلی: خواتین ریزرویشن بل، حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) اور پارلیمنٹ و اسمبلی نشستوں میں ممکنہ اضافے کے معاملے پر ملک کی سیاست ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے۔ ایک طرف مرکزی حکومت نے ان معاملات پر اپنی تیاری تیز کر دی ہے، تو دوسری جانب اپوزیشن اتحاد ’انڈیا بلاک‘ نے بھی حکومت کو گھیرنے کے لیے حکمت عملی کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں 15 اپریل کو کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی دہلی میں واقع رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کی ایک اہم میٹنگ طلب کی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس اجلاس میں خواتین ریزرویشن بل، پارلیمنٹ کے آئندہ خصوصی اجلاس اور حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ اس میٹنگ میں اپوزیشن اتحاد کے کئی سرکردہ رہنما شریک ہوں گے اور ایک متحدہ لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن اس میٹنگ میں اس بات پر بھی غور کرے گی کہ پارلیمنٹ میں حکومت کو کن نکات پر گھیرنا ہے اور کس طرح ان حساس معاملات کو عوامی سطح پر اٹھایا جائے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ میٹنگ اپوزیشن اتحاد کے لیے اپنی یکجہتی کو مضبوط کرنے کا ایک اہم موقع ثابت ہو سکتی ہے۔ ادھر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر کئی الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے خواتین ریزرویشن بل کا مسودہ تاخیر سے ارکان پارلیمنٹ کو فراہم کیا ہے، جس کے باعث انہیں اس اہم قانون پر بحث کے لیے مناسب وقت نہیں مل سکا۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کے اقدامات جمہوری عمل کو کمزور کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کو محض ایک رسمی ادارہ بنا دیتے ہیں۔

اپوزیشن لیڈروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے اس بل کو سیاسی فائدے کے لیے پیش کیا ہے، خاص طور پر تمل ناڈو اور مغربی بنگال جیسے ریاستوں میں آئندہ انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے خواتین ووٹروں کو متوجہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کے پیچھے اصل مقصد دیگر اہم مسائل، خصوصاً توانائی کے بحران، سے توجہ ہٹانا بھی ہو سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے 16 سے 18 اپریل کے درمیان پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں خواتین ریزرویشن بل کو منظور کروانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس بل کے ساتھ ساتھ حلقہ بندی اور نشستوں میں اضافے جیسے معاملات بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے، جن پر پہلے ہی سیاسی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔

اپوزیشن کا الزام ہے کہ مجوزہ حلقہ بندی اور نشستوں میں اضافہ ملک کے مختلف خطوں کے درمیان توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ خاص طور پر جنوبی ہند، شمال مشرقی ریاستوں اور شمالی ہند کے درمیان نمائندگی کے فرق کو لے کر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں کے مطابق اگر یہ اقدامات بغیر وسیع اتفاق رائے کے نافذ کیے گئے تو اس سے قومی یکجہتی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ معاملہ نہ صرف پارلیمنٹ کے اندر بلکہ عوامی سطح پر بھی ایک بڑی بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اب سب کی نظریں اپوزیشن کی اس اہم میٹنگ اور پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں ان معاملات پر فیصلہ کن پیش رفت متوقع ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

55 minutes ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

2 hours ago

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

11 hours ago