قومی

Women Reservation Bill: خواتین ریزرویشن بل پر پارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ، اکھلیش یادو کا حکومت پر حملہ، اپوزیشن نے اٹھائے کئی سوالات، جانئے کس نے کیا کہا؟

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خواتین ریزرویشن بل کو لے کر زبردست سیاسی گھمسان دیکھنے کو ملا، جہاں ایک طرف بیشتر اپوزیشن جماعتوں نے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت کی، وہیں دوسری جانب حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے معاملے پر شدید اختلافات سامنے آئے۔ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اس بل کو بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی، جبکہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن لیڈروں نے بھی اپنے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ لوک سبھا میں بحث کے دوران اکھلیش یادو نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی خواتین کے ریزرویشن کے حق میں ہے اور ہمیشہ خواتین کو آگے بڑھانے کی حمایت کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کے نظریات کے مطابق صنفی اور سماجی انصاف ضروری ہے اور اسی بنیاد پر وہ 33 فیصد خواتین ریزرویشن کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اس بل کو اقتدار میں بنے رہنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حلقہ بندی کے ذریعے انتخابی نقشہ بدلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس بل کے ذریعے واقعی تمام طبقات کی خواتین کو فائدہ ہوگا، خاص طور پر مسلم اور او بی سی خواتین کو۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ریزرویشن دینا ہے تو پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ خود نشستیں مختص کریں، نہ کہ علاقوں کی بنیاد پر تبدیلی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کو یہ بتانا چاہیے کہ ان کے زیر اقتدار 21 ریاستوں میں کتنی خواتین کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے۔ دہلی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کی خاتون وزیر اعلیٰ کے پاس بھی مکمل اختیارات نہیں ہیں۔ اکھلیش نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اتر پردیش میں اسمبلی کی نشستوں کو 600 تک بڑھانے کی بات ہو رہی ہے، جس کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی سازش ہو سکتی ہے۔

اکھلیش یادو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر یہ سب ایک منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے تو جیسے ایودھیا میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، ویسے ہی اتر پردیش میں بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا اصل مقصد ووٹ حاصل کرنا اور اقتدار میں رہنا ہے، جبکہ عوامی مسائل جیسے مہنگائی اور خواتین کی روزمرہ مشکلات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ کانگریس کے لیڈر گورو گگوئی نے بھی بل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت اسے فوری طور پر نافذ کرے اور اسے حلقہ بندی کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو 2024 کے انتخابات سے پہلے ہی خواتین کو ریزرویشن کا فائدہ مل سکتا تھا۔ انہوں نے سونیا گاندھی کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریزرویشن کو مردم شماری اور حلقہ بندی سے الگ رکھا جانا چاہیے۔

گگوئی نے الزام لگایا کہ حکومت جان بوجھ کر اس عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے تاکہ اس میں تاخیر ہو۔ ان کے مطابق موجودہ لوک سبھا کی 543 نشستوں کے ساتھ ہی اس قانون کو نافذ کیا جا سکتا ہے، لیکن حکومت اس میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے اس بل کو خواتین، آئین اور وفاقی ڈھانچے کے خلاف قرار دیا۔ اسی طرح اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اصل مقصد جنوبی ہند پر سیاسی غلبہ حاصل کرنا اور او بی سی نمائندگی کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبادی کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم دوبارہ کی گئی تو اس سے وفاقی نظام متاثر ہوگا اور جنوبی ریاستوں کی آواز کمزور ہو جائے گی۔ اویسی نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندی بولنے والے علاقوں کی نشستوں میں اضافہ ہوگا جبکہ جنوبی ریاستوں کی نشستیں کم ہو سکتی ہیں، جو کہ ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں نے آبادی کنٹرول میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے، لیکن نئے فارمولے سے انہیں نقصان ہوگا۔

کانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال اور راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے بھی اس بل پر اعتراضات اٹھائے۔ کپل سبل نے کہا کہ یہ محض حلقہ بندی کا مسئلہ نہیں بلکہ آئینی ترمیم کا معاملہ ہے، جس میں کئی بنیادی سوالات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور مردم شماری کے بغیر اس طرح کے فیصلے مناسب نہیں ہیں۔ مجموعی طور پر پارلیمنٹ کے اس خصوصی اجلاس میں خاتون ریزرویشن بل پر اتفاق رائے نہ بن سکا اور اپوزیشن کی جانب سے کئی اہم سوالات اٹھائے گئے۔ اگرچہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے سبھی جماعتیں اصولی طور پر متفق نظر آئیں، لیکن اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور وقت کو لے کر اختلافات برقرار ہیں، جس سے آئندہ دنوں میں اس مسئلے پر مزید سیاسی کشیدگی کے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

6 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

6 hours ago