قومی

WMO El Nino Alert Global Drought: کیا بھارت بھی خشک سالی کی لپیٹ میں آئے گا؟ ‘ال نینو’ کا خطرہ 80 فیصد تک بڑھ گیا، ڈبلیو ایم او کی وارننگ— آئندہ 3 ماہ شدید خشک سالی کے آثار

بھارت سمیت دنیا بھر میں آئندہ تین ماہ کے دوران شدید خشک سالی اور موسمی بے ترتیبی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ بھارتی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے بعد اب اقوام متحدہ کی خصوصی موسمیاتی ایجنسی عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) نے بھی عالمی آب و ہوا کے حوالے سے تشویشناک انتباہ جاری کیا ہے۔ تنظیم کی تازہ رپورٹ کے مطابق بحرالکاہل (پیسیفک اوشن) کا پانی غیر معمولی رفتار سے گرم ہو رہا ہے، جس کے باعث جون سے اگست کے درمیان ال نینو کے اثرات پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ نومبر تک یہ خطرہ 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔

زرعی وزارت نے ریاستوں کو فوری تیاری کی ہدایت دی

ال نینو کے بڑھتے خطرے اور معمول سے کم بارش کے خدشات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے تمام ریاستوں اور متعلقہ اداروں کو ضلعی سطح پر خشک سالی سے نمٹنے کے منصوبے فوری طور پر نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وزارتِ زراعت نے کہا ہے کہ کسانوں تک موسم اور فصلوں سے متعلق معلومات بروقت پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور خصوصی کال سینٹر خدمات کو مزید مضبوط بنایا جائے، تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔

ال نینو کیا ہے؟

سادہ الفاظ میں، جب بحرالکاہل کے استوائی علاقے میں چلنے والی سمندری ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں تو جنوبی امریکہ کے ساحلی علاقوں کے قریب سمندر کا پانی غیر معمولی حد تک گرم ہو جاتا ہے۔ اسی کیفیت کو ال نینو کہا جاتا ہے۔ ڈبلیو ایم او کے سائنس دانوں کے مطابق اس بار بحرالکاہل کی سطح کے نیچے موجود پانی معمول سے تقریباً 6 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم ہو چکا ہے، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ یہی اضافی حرارت سمندر کی بالائی سطح کو مزید گرم کر رہی ہے اور ال نینو کے عمل کو تیز کر رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں بادلوں اور ہواؤں کے نظام میں تبدیلی آتی ہے اور موسمی توازن متاثر ہو جاتا ہے۔

کیرالہ میں مانسون کی تاخیر، دو قدرتی عوامل سے امید

ماہرین موسمیات کے مطابق اس سال جنوب مغربی مانسون اپنی معمول کی رفتار سے کچھ پیچھے چل رہا ہے۔ عام طور پر یکم جون کو کیرالہ پہنچنے والا مانسون اس بار 4 جون کے آس پاس ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دو قدرتی موسمی نظام ایسے ہیں جو بھارت کو ال نینو کے ممکنہ منفی اثرات سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:

انڈین اوشن ڈائی پول (IOD): اگر اس کا اثر مثبت رہا تو یہ ال نینو کے باعث پیدا ہونے والے خشک سالی کے اثرات کو کم کر کے بھارت میں معمول یا بہتر بارش کا سبب بن سکتا ہے۔میڈن-جولین آسیلیشن (MJO): بادلوں اور ہواؤں کا یہ عالمی نظام جب بھارت کے اوپر سے گزرتا ہے تو کمزور مانسون کے دوران بھی اچھی بارش کا سبب بنتا ہے۔

ڈبلیو ایم او کی وارننگ

ڈبلیو ایم او نے بھارت سمیت تمام متاثرہ ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ممکنہ خشک سالی اور شدید گرمی کی لہر سے نمٹنے کے لیے جنگی بنیادوں پر تیاری کی ضرورت ہے۔ تنظیم کے مطابق زراعت، صحت اور توانائی کے شعبوں کو مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ بروقت موسمی معلومات اور پیشگی انتظامی اقدامات ہی اس قدرتی چیلنج کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔یاد رہے کہ 2023-24 کا ال نینو تاریخ کے طاقتور ترین ادوار میں شمار کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 2024 میں عالمی درجۂ حرارت نے کئی پرانے ریکارڈ توڑ دیے تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Third BIMSTEC Conference: بِمسٹیک کی روایتی طب، جینیاتی وسائل اور دانشورانہ املاک کے حقوق پر تیسری کانفرنس گوا میں شروع

بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…

8 hours ago

Bharat Express Urdu National Conclave: بزمِ صحافت: نئے بھارت کی بات، اردو کے ساتھ، بھارت ایکسپریس اردو  کا نیشنل کانکلیو

مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…

10 hours ago

Punjab Turban Row: پنجاب میں ’پگڑی‘ پر گھمسان تو یوپی میں کانگریس کی نئی بریگیڈ تیار! جانیے 5 ریاستوں کے انتخابات سے پہلے کیا ہے ہلچل؟

اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…

11 hours ago

Special Parliament Session: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی تیاری؟ حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر ہو سکتا ہے بڑا فیصلہ

پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…

12 hours ago