ممبئی: شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اتوار کو سونم وانگچک کو جنتر منتر پر جاری احتجاجی مقام سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے معاملے پر بی جے پی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ’خاک میں ملا دینا چاہیے‘۔ دادر میں منعقدہ احتجاجی مظاہرے کے دوران ادھو ٹھاکرے نے سونم وانگچک کی ملک کے لیے خدمات کا موازنہ کرتے ہوئے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر صنعت کاروں کے مفادات کے لیے کام کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا ’’آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ ایک آگ ہے، ایسی آگ جس میں اس حکومت کو خاک میں ملا دینا چاہیے۔ یہ حکومت عطیات چوری کر رہی ہے، ووٹ چوری کر رہی ہے اور مستقبل چوری کر رہی ہے، آخر اس نے دیا کیا ہے؟ سونم وانگچک نے ملک کے لیے جو کچھ کیا ہے، اس کا موازنہ اس حکومت کے کاموں سے کیجیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’کیا صفر درجہ حرارت میں تعینات فوجیوں کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے خیمے بنانے والا شخص غدار ہوسکتا ہے؟ یہ لوگ تو صرف صنعت کاروں کے مفادات کے لیے کام کرنے والے لوگ ہیں۔‘‘
’وانگچک سے بات چیت کیوں نہیں کی گئی؟‘
ادھو ٹھاکرے نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران سونم وانگچک سے ملاقات نہ کرنے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا ’’سنگھ کبھی پاکستان سے بات چیت کی وکالت کرتا تھا اور موہن بھاگوت کہتے ہیں کہ وہ ہٹلر جیسے نہیں ہیں۔ اپنے مودی سے کہیے، وانگچک سے بات چیت کیوں نہیں کی گئی؟‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’ہم پُرجوش اور محب وطن ہندوتوا پر یقین رکھتے ہیں۔ جو بھی اس ملک سے محبت کرتا ہے، وہ ہمارا ہے۔ جب انا ہزارے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے اور انہیں زبردست شہرت ملی تھی، تو کسی نے انہیں غدار نہیں کہا تھا۔ اس وقت کی حکومت کے وزرا ان سے ملاقات کے لیے گئے تھے۔ آج مودی حکومت بھی ایسا کیوں نہیں کرتی؟ آپ پردے کے پیچھے سچ نہیں چھپا سکتے۔‘‘
’وقت آنے پر ہم دہلی جائیں گے‘
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے معاملے پر بھی ادھو ٹھاکرے نے حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ دھرمیندر پردھان کے لیے حکومت اتنی فکر مند کیوں ہے۔ انہوں نے کہا ’’سونم وانگچک کے والد جب بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے، تو اندرا گاندھی ان سے ملنے گئی تھیں۔ وقت آنے پر ہم دہلی جائیں گے۔ جب ماضی میں عوام متحد ہو کر سڑکوں پر اترتی تھی تو انگریزوں کو ملک سے بھاگنا پڑا تھا۔ اعلان کیجیے کہ آپ محب وطن ہیں، اندھے عقیدت مند نہیں۔‘‘
آدتیہ ٹھاکرے نے بھی حکومت پر حملہ کیا
شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے بھی سونم وانگچک کو احتجاجی مقام سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے پر بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا ’’آپ نے سونم وانگچک اور ابھیجیت دیپکے کے لیے حمایت دیکھی ہے۔ آج پورے مہاراشٹر کے نوجوان ممبئی میں جمع ہوئے ہیں۔ کل دہلی میں پارلیمنٹ کی طرف مارچ کے دوران بھی اسی طرح کا جوش اور طاقت دیکھنے کو ملے گی اور یہ تحریک مزید بڑھے گی۔‘‘ آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ سونم وانگچک کی حراست ملک کی جمہوریت کے خلاف ہے اور ان کا واحد مطالبہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک کے نوجوانوں کی آواز ہے۔
دریں اثنا، دہلی ہائی کورٹ نے اتوار کو مشاہدہ کیا کہ سونم وانگچک کی بگڑتی صحت کے پیش نظر انہیں احتجاجی مقام سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کرنے کے حکومت کے فیصلے کو بادی النظر میں من مانا نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی اس سے ان کی شخصی آزادی کی خلاف ورزی ہوتی ہے، کیونکہ یہ قدم ان کی جان بچانے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔ عدالت نے سونم وانگچک کو صفدرجنگ اسپتال سے ان کی پسند کے کسی نجی اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر عبوری راحت دینے کی بھی کوئی بنیاد نہیں پائی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…