قومی

Gitanjali Criticizes The Government: ’’صحت کی فکر محض ڈرامہ‘‘ گیتانجلی انگمو کا الزام، حکومت کو سونم وانگچک کے 20 جولائی کے مارچ میں شامل ہونے کا خوف

نئی دہلی: سماجی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے اتوار کو مرکز کی جانب سے ان کی صحت کے بارے میں ظاہر کی گئی تشویش کو ’’محض ڈرامہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کو خدشہ تھا کہ سونم وانگچک 20 جولائی کو نیٹ-یو جی پیپر لیک کے خلاف پارلیمنٹ کی جانب ہونے والے مارچ میں شامل ہو جائیں گے۔ دہلی ہائی کورٹ نے سونم وانگچک کو فوری طور پر صفدرجنگ اسپتال سے ڈسچارج کرنے اور میڈانتا اسپتال منتقل کرنے کی ان کی اہلیہ گیتانجلی انگمو کی درخواست پر عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ وانگچک زیر حراست نہیں ہیں اور حکومت کی جانب سے انہیں سرکاری اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کو من مانا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ گیتانجلی انگمو نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے وانگچک کے صفدرجنگ اسپتال میں مسلسل قیام کو چیلنج کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ نیٹ-یو جی پیپر لیک کے معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے وانگچک کو جنتر منتر سے زبردستی ہٹایا گیا اور ان کی رضامندی کے بغیر اسپتال میں رکھا جا رہا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گیتانجلی انگمو نے دعویٰ کیا کہ وانگچک کی صحت خراب نہیں ہو رہی تھی اور ان کے پوٹاشیم کی سطح سرکاری اسپتال میں ریکارڈ کی گئی سطح سے بہتر تھی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار جنتر منتر سے وانگچک کو صفدرجنگ اسپتال لے جانے سے پہلے ان کے اہل خانہ کو اطلاع دے سکتے تھے۔

’اگر صحت کی فکر تھی تو سادہ طریقے سے طبی جانچ کی جا سکتی تھی‘

گیتانجلی انگمو نے کہا ’’انہوں نے کہا کہ وہ ان کی صحت کے بارے میں بہت فکرمند تھے اور ان کی حالت بگڑ رہی تھی، لیکن یہ دعوے غلط ہیں۔ ان کی صحت بالکل خراب نہیں ہو رہی تھی۔ اگر آپ ایک شام پہلے کی رپورٹس دیکھیں تو سب کچھ بالکل معمول کے مطابق تھا۔ ان کی پوٹاشیم کی سطح 4.3 تھی اور دیگر تمام پیرامیٹرز بھی معمول پر تھے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’اگر آپ واقعی ان کی صحت کے بارے میں فکرمند تھے تو سادہ لباس میں پولیس اہلکاروں کو کیوں بھیجا گیا؟ آپ اتنی بے رحمی سے انہیں اٹھا کر اسٹریچر پر ڈال کر کیوں لے گئے؟ آپ طبی جانچ کے لیے آ سکتے تھے اور ان کے اہل خانہ کو بتا سکتے تھے کہ فلاں سطح کم ہے اور اسی وجہ سے انہیں اسپتال لے جانا چاہتے ہیں۔ جمہوریت میں چیزوں کو سنبھالنے کا یہی مناسب طریقہ ہے۔‘‘

’حکومت کو خوف تھا کہ مارچ میں لاکھوں لوگ شامل ہو جائیں گے‘

گیتانجلی انگمو نے کہا ’’اگر انہیں واقعی ان کی صحت کی فکر تھی، اور میں یہ بات بغیر کسی لگی لپٹی کے کہنا چاہتی ہوں، تو صحت سے متعلق تشویش کی یہ پوری کہانی محض ڈرامہ ہے۔ انہیں صرف اس بات کا خوف تھا کہ اگر سونم مارچ کے لیے نکلے تو نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک سے لاکھوں لوگ ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے، اور وہ اسے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ وانگچک کا علاج اپنی پسند کے ڈاکٹروں سے کرانا چاہتے ہیں، جہاں وہ خود کو زیادہ مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ انگمو نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات کی رپورٹ میں وانگچک کا بلڈ پریشر، جو عام طور پر 110/70 رہتا ہے، بڑھ کر 125/85 ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ اسپتال کے ماحول کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

’پولیس مسلسل نگرانی کر رہی ہے، ماحول جودھپور جیل جیسا‘

اسپتال میں پولیس کی نگرانی کا الزام لگاتے ہوئے گیتانجلی انگمو نے وانگچک کی صورت حال کا موازنہ ستمبر 2025 میں ان کی گرفتاری کے بعد جودھپور جیل میں قیام سے کیا۔ انہیں لداخ میں چھٹی شیڈول کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’انہیں اپنے ڈاکٹروں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ہم اپنے ان ڈاکٹروں سے مشورہ کرنا چاہتے ہیں جن پر ہمیں اعتماد ہے۔ پولیس مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ جب میں ان کے کمرے میں ہوتی ہوں تو ایک کانسٹیبل ساتھ موجود رہتا ہے۔ ماحول جودھپور جیل جیسا ہے۔‘‘ انگمو نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں اپنا فون ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور سونم وانگچک کو ان کا ٹیبلٹ بھی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب پولیس اہلکاروں سے احکامات دکھانے کو کہا گیا تو ان کے پاس کوئی تحریری حکم موجود نہیں تھا۔

عدالت نے کہا—غیر قانونی حراست کا کوئی ثبوت نہیں

دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس منی پشکرنا نے اتوار کو کہا کہ عدالت کے سامنے پیش کیے گئے مواد سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ سونم وانگچک کو غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ان کی اہلیہ، بھائی اور دیگر اہل خانہ کو ان سے ملنے کی بلا روک ٹوک اجازت دی گئی ہے اور اسپتال میں ان کے قیام کے لیے الگ کمرہ بھی فراہم کیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ وانگچک تقریباً 17 سے 18 دن تک بھوک ہڑتال پر رہے تھے، جس کے بعد انہیں صفدرجنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔ عدالت نے اس سے قبل ڈویژن بینچ کی جانب سے دیے گئے اس حکم کا بھی حوالہ دیا، جس میں سرکاری ڈاکٹروں کے ذریعے روزانہ طبی نگرانی کی ہدایت دی گئی تھی۔ مرکز کے دلائل کا ریکارڈ لیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ وانگچک کو ان کی بگڑتی ہوئی طبی حالت کے سبب صفدرجنگ اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ عدالت نے طبی رائے کا بھی نوٹس لیا، جس کے مطابق ان کی شوگر اور سوڈیم کی سطح معمول سے کم تھی، جبکہ پوٹاشیم کی سطح خطرناک حد تک گر گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے مزید نوٹ کیا کہ وانگچک کی رضامندی نہ ہونے کے سبب انہیں انٹراوینس فلوئڈز نہیں دیے گئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ حکومت نے وانگچک کی طبی حالت کے پیش نظر انہیں اسپتال منتقل کیا تھا، اس لیے اس کارروائی کو من مانا قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

1 hour ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

1 hour ago