جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر سے متعلق جے این یو تنازعہ میں آگیا ہے۔
نئی دہلی: دارالحکومت دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی ہے، لیکن ابھی اسے ایک عدد مستقل وائس چانسلربھی نہیں مل رہا ہے۔ اس سے ایک بڑا سوال اٹھتا ہے کہ آخرجامعہ ملیہ اسلامیہ سے متعلق حکومت کیوں سرد مہری اختیارکررہی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ تمام اساتذہ اورطلبا بھی جلدازجلد مستقل وائس چانسلرکا مطالبہ کررہے ہیں۔ اسکریننگ کمیٹی نے پانچ ناموں کوفہرست تیارکرلی ہے، لیکن اس میں ایک نام جے این یوکے ڈین پروفیسرمظہرآصف کا نام بھی شامل ہے، لیکن ان پرایک سنگین الزام لگ رہا ہے، جو جے این یوکی ایک خاتون ملازمہ نے لگائے ہیں۔ یہ معاملہ ابھی عدالت میں بھی ہے۔ اس پرہماری خاص ویڈیوآپ ضروردیکھیں۔
پروفیسرمظہرآصف کے خلاف خاتون ملازمہ نے جوالزام لگائے ہیں، وہ معاملہ انتہائی حساس ہے۔ الزام ہے کہ کوآرڈینیٹرکے طورپر پروفیسرراجیوسکسینہ نے 8.6 گریڈ دیا تھا، جسے ڈین ہونے کی حیثیت سے پروفیسرمظہرآصف نے کم کردیا۔ پروفیسرراجیو سکسینہ کا کہنا ہے کہ 35 سالوں کے جے این یو کے کیریئرمیں میں نے کبھی نہیں سنا کہ کسی کے گریڈ کوکم کردیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
دوسرے ٹی 20 مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔…
جزائر انڈمان اور نکوبار کے لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے سوراج دیپ کا دو…
آئی پی ایس افسر ونئے کمار چوبے کو نمایاں خدمات کے لیے صدر جمہوریہ کے…
10 اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے مجوزہ مارچ سے…
مرکزی حکومت کی وزیر اعظم روزگار تخلیق پروگرام اسکیم سے چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کو…
راہل گاندھی نے کہا کہ اب مرکزی حکومت کو برطرف کرنا ہوگا، کیونکہ انہیں انتخابی…