نئی دہلی: بھارتی معیشت اس وقت ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جسے عالمی ماہرین معاشیات ’گولڈی لاکس فیز‘ کہتے ہیں۔ ایک ایسا وقت جب اقتصادی شرحِ ترقی مضبوط ہو، مہنگائی قابو میں ہو اور پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہے۔ یہ مرحلہ نہ صرف نایاب ہے بلکہ موجودہ عالمی غیر یقینی ماحول میں اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال اس وقت سامنے آئی جب رِیزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترہ نے اپنی پہلی سالانہ مانیٹری پالیسی پیش کرتے ہوئے بھارتی معیشت کو ’’دُرلبھ گولڈی لاکس پیریڈ‘‘ میں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف دنیا کے مختلف ممالک تجارتی کشمکش، امریکی ٹیرف پالیسیوں، جیو پولیٹیکل تناؤ اور کمزور مالیاتی ڈھانچوں سے پریشان ہیں، وہیں بھارت کی ترقی مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔
کیا ہے ’گولڈی لاکس پیریڈ‘؟
گولڈی لاکس کی اصطلاح دراصل ایک پرانی کہانی سے لی گئی ہے، جس میں ایک بچی مختلف درجہ حرارت کے دلیے چکھتی ہے—ایک بہت گرم، دوسرا بہت ٹھنڈا اور تیسرا ’’بالکل صحیح‘‘۔ معیشت میں یہی ’’بالکل صحیح‘‘ والی حالت گولڈی لاکس کہلاتی ہے، یعنی ترقی بھی مناسب رفتار سے ہو اور مہنگائی بھی کم رہے۔ معاشیات کی زبان میں ’گرم معیشت‘ وہ ہوتی ہے جہاں ترقی تو تیز ہو لیکن افراطِ زر عام آدمی کے لیے مشکلات پیدا کر دے۔ جبکہ ’سرد معیشت‘ میں مہنگائی تو کم ہوتی ہے مگر ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے، روزگار گھٹتا ہے اور کاروبار دھیمی رفتار سے چلتے ہیں۔ اصل کامیابی اس درمیانی اور متوازن حالت کو برقرار رکھنا ہے، جو اکثر ممالک کے لیے مشکل ہوتی ہے۔
بھارت نے دونوں چیلنج ایک ساتھ پورے کیے
اس وقت بھارتی معیشت میں جی ڈی پی کی ترقی 8 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ مہنگائی کم ہو کر تقریباً 2.2 فیصد رہ گئی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت ایک ساتھ دونوں اہداف—تیز ترقی اور کم مہنگائی—حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ گورنر ملہوترہ نے کہا کہ جب بڑی معیشتیں مندی اور مہنگائی کے دوہرے دباؤ سے گزر رہی ہیں، بھارت اس کے برعکس مضبوط معاشی رفتار دکھا رہا ہے۔
سنیل متل کا بیان اور مواقع
بزنس لیڈر اور بھارتی انٹرپرائزز کے چیئرمین سنیل متل نے بھی اس صورتحال کو بھارت کے لیے ’’تاریخی لمحہ‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے عالمی تجارتی معاہدوں پر رفتار بڑھانی چاہیے، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری تیز کرنی چاہیے اور خاص طور پر ملک میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا مضبوط نظام تیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر بھارت نے اس دور کو صحیح طور پر استعمال کیا تو 2047 تک دنیا کی بڑی معاشی طاقت بننے کا ہدف پورا ہو سکتا ہے۔
خطرات اور چیلنجز کیا ہیں؟
اگرچہ یہ صورتحال انتہائی مثبت ہے لیکن اس کے ساتھ خطرات بھی موجود ہیں۔ موسمی خرابی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ، یا بین الاقوامی سیاسی تناؤ بڑھنے سے یہ نازک توازن بگڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آر بی آئی نے محتاط رویہ اپنایا ہے اور مہنگائی پر مسلسل نظر رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔ بھارتی معیشت کا موجودہ ’گولڈی لاکس پیریڈ‘ اس بات کی علامت ہے کہ مضبوط گھریلو طلب، درست پالیسی سازی، اور کاروباری ماحول میں استحکام بھارت کو ایک نئے اقتصادی دور میں لے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو بھارت آنے والے برسوں میں عالمی معیشت میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…
AFSPA کے تحت یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا حکم، 5 اضلاع کے 13 پولیس تھانوں…
’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…
گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری…