نئی دہلی :راہل گاندھی نے خواتین ریزرویشن کے معاملے پر بات کرتے ہوئے اپنی دادی اور سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو یاد کیا اور ایک ذاتی واقعہ بیان کیا۔ لوک سبھامیں خصوصی اجلاس کے دوسرے دن خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے بتایا کہ بچپن میں ایک بار ان کی دادی انہیں گھر سے باہر لے گئیں اور کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دیا۔ اس دوران وہاں موجود کتوں اور چند افراد کو دیکھ کر وہ خوفزدہ ہو گئے۔راہل گاندھی نے بتایا کہ جب اندرا گاندھی واپس آئیں اور انہوں نے خوف کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ انہیں ڈر لگ رہا تھا۔ اس پر اندرا گاندھی نے جواب دیا کہ یہ ڈر ان کے ذہن میں تھا اور انہیں اس کا سامنا کرنا چاہیے۔
“ڈر سے لڑنا دادی نے سکھایا“
راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی دادی نے انہیں خوف کا مقابلہ کرنا سکھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان اپنی زندگی میں خواتین سے بہت کچھ سیکھتا ہے، چاہے وہ ماں ہو، بہن ہو یا کوئی اور کردار۔ انہوں نے کہا کہ “سچائی کڑوی ہوتی ہے، لیکن اس کا سامنا کرنا چاہیے۔”
اپنی تقریر میں راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ موجودہ خواتین ریزرویشن بل درحقیقت خواتین کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2023 میں منظور ہونے والے خواتین ریزرویشن بل کے وقت حکومت کے اتحادیوں نے کہا تھا کہ اسے 10 سال بعد نافذ کیا جائے گا۔
“الیکٹورل میپ بدلنے کی کوشش“
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ملک کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو خواتین ریزرویشن کے اصل مقصد سے الگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ نمائندگی سے جڑا ہوا ہے اور اسے سیاسی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
ذات پر مبنی مردم شماری کا معاملہ
خواتین ریزرویشن اور ذات پر مبنی مردم شماری پر بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے حکومت سے کئی سوالات بھی کیے۔ انہوں نے کہا کہ امت شاہ نے ذات پر مبنی مردم شماری کی بات تو کی، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ ان اعداد و شمار کو ریزرویشن طے کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا یا نہیں۔راہل گاندھی نے کہا کہ اگر حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کے مطابق حقیقی نمائندگی دینے کو تیار ہے تو انڈین نیشنل کانگریس اس کی مکمل حمایت کرے گی۔
حکومت پر “ڈر کی سیاست” کا الزام
راہل گاندھی نے حکومت پر “ڈر کی سیاست” کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ چھوٹی ریاستوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اقتدار برقرار رکھنے کے لیے ان کی سیاسی نمائندگی کم کی جا سکتی ہے، جسے اپوزیشن قبول نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ دلت اور او بی سی طبقات کو صرف نام کے لیے “ہندو” کہا جاتا ہے، لیکن انہیں مناسب سیاسی نمائندگی نہیں دی جاتی۔ راہل گاندھی نے زور دے کر کہا کہ ان کی پارٹی ان طبقات کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور حقیقی نمائندگی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
بھارت ایکسریس اردو
ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’دہلی پولیس…
پنجاب میں منشیات کے کاروبار، گینگسٹر ازم اور بڑھتے جرائم کو لے کر سیاسی گھمسان…
بھارتی کپتان اسمرتی مندھانا ٹی 20 انٹرنیشنل میں 5,000 رنز مکمل کرنے سے صرف 133…
پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی نے تمام 8 نشستوں پر امیدوار اتارے ہیں، پٹنہ…
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’رجیم چینج‘…
ایمکے ریسرچ نے شرح نمو کے مقابلے میں مناسب قیمت کو دیکھتے ہوئے ’ سبسکرائب…