نئی دہلی: دارالحکومت میں منعقد ہونے والے ‘انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ’ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے ہوئے مستقبل، اس کے ممکنہ خطرات اور نوجوان نسل کی ذمہ داریوں پر اہم پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی انسانیت کی تقدیر بدلنے والی ٹیکنالوجی بن سکتی ہے، لیکن اس کی سمت کا تعین آج کے فیصلے کریں گے۔ وزیر اعظم نے دنیا بھر کے سو سے زائد ممالک سے آئے رہنماؤں، ماہرین اور اختراع کاروں کا 140 کروڑ بھارتیوں کی جانب سے استقبال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نئی ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنانے والا ملک ہے اور عالمی سطح پر اے آئی قیادت کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
ایٹمی تباہی کا حوالہ کیوں دیا؟
وزیر اعظم مودی نے اپنی تقریر میں انسانی تاریخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا پہلے بھی خطرناک ٹیکنالوجی کے دور سے گزر چکی ہے۔ انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے دور کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ انسانیت نے جوہری تباہی کے خطرات دیکھے، مگر عالمی تعاون اور ذمہ دارانہ پالیسیوں کے ذریعے اس کے حل بھی تلاش کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی بھی اسی نوعیت کی طاقت رکھتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ آنے والی نسلوں کے لیے کس طرح کی مصنوعی ذہانت چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی جتنی طاقتور ہوگی، اس کے استعمال کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہوگی۔
نوجوانوں کا کردار اور میک اِن انڈیا کی طاقت
وزیر اعظم نے سمٹ میں نوجوانوں کی بڑی شرکت کو بھارت کے روشن مستقبل کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں ہر نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں خدشات ہوتے ہیں، لیکن بھارتی نوجوان جس اعتماد کے ساتھ اے آئی کو اپنا رہے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نوجوانوں کے تیار کردہ اے آئی حل نہ صرف مسائل کا عملی حل پیش کر رہے ہیں بلکہ ‘میک اِن انڈیا’ وژن کو بھی مضبوط بنا رہے ہیں۔
انسان مرکز اے آئی کی ضرورت
وزیر اعظم مودی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی کو مشین سینٹرک نہیں بلکہ ہیومن سینٹرک ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کا مقصد انسان کو محض ڈیٹا پوائنٹ بنانا نہیں بلکہ اس کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اے آئی کو ‘سروجن ہتائے، سروجن سکھائے’ کے اصول پر آگے بڑھانا چاہتا ہے تاکہ یہ ٹیکنالوجی ہر طبقے تک پہنچے اور عالمی جنوب سمیت پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔
عالمی قیادت کی جانب بھارت کا قدم
اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت مضبوط پالیسی، باصلاحیت افرادی قوت اور تیزی سے بڑھتے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کی بدولت اے آئی انقلاب کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مستقبل میں اے آئی زراعت، قومی سلامتی، معذور افراد کی مدد اور کثیر لسانی معاشرے کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اے آئی کو ذمہ داری، اخلاقیات اور انسانیت کے مفاد کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ دنیا کو زیادہ محفوظ، مساوی اور ترقی یافتہ بنا سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…