نئی دہلی: بھارت کی زرعی معیشت میں خواتین کا کردار انتہائی اہم ہے، لیکن ان کی خدمات اور شراکت کو اب بھی وہ مناسب شناخت نہیں مل رہی جس کی وہ مستحق ہیں۔ زرعی افرادی قوت میں نمایاں حصہ رکھنے کے باوجود بہت سی خواتین کو زمین، مالی وسائل اور دیگر ضروری سہولیات تک مردوں کے برابر رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس کا براہِ راست اثر ان کی پیداواری صلاحیت اور آمدنی پر پڑتا ہے۔ اخبار کے گرافک میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی مجموعی زرعی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ 64 فیصد ہے۔ تاہم، ملک کی مجموعی زیرِ کاشت زمین میں خواتین کے زیرِ انتظام رقبہ صرف 11.7 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ زراعت میں خواتین کی شرکت اور زرعی اثاثوں پر ان کے اختیار کے درمیان ایک بڑا فرق موجود ہے۔
مردوں کے مقابلے میں خواتین کی آمدنی کم
آمدنی کے معاملے میں بھی خواتین کسان پیچھے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق خواتین کو مردوں کی ہر 100 روپے کی آمدنی کے مقابلے میں تقریباً 82 روپے حاصل ہوتے ہیں۔ یعنی زرعی شعبے میں خواتین اور مردوں کی آمدنی کے درمیان تقریباً 18 فیصد کا فرق موجود ہے۔ خواتین کسانوں کی پیداواری صلاحیت بھی وسائل تک محدود رسائی سے متاثر ہوتی ہے۔ گرافک کے مطابق خواتین کی پیداواری صلاحیت مردوں کے مقابلے میں تقریباً 24 فیصد کم ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں قرض، زرعی اجناس اور دیگر ان پٹس، جدید ٹیکنالوجی اور معاون خدمات تک محدود رسائی شامل ہیں۔ اگر خواتین کسانوں کو مالی وسائل، جدید زرعی آلات اور تربیت تک بہتر رسائی فراہم کی جائے تو ان کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
تقریباً نصف خواتین بلا معاوضہ کام کرتی ہیں
خواتین زرعی شعبے میں بڑی مقدار میں بلا معاوضہ کام بھی کرتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق زراعت سے وابستہ 47.7 فیصد خواتین خاندانی کھیتوں میں بلا معاوضہ مددگار کے طور پر کام کرتی ہیں، جبکہ مردوں میں یہ شرح 20.2 فیصد ہے۔ خواتین کی یہ محنت کھیتی باڑی اور خاندان کی آمدنی کے لیے انتہائی اہم ہونے کے باوجود اکثر اقتصادی پیداوار کے روایتی اعداد و شمار میں پوری طرح نظر نہیں آتی۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسائل تک غیر مساوی رسائی کی وجہ سے بھارت ہر سال تقریباً 1.2 سے 2 ٹریلین روپے کی زرعی پیداوار سے محروم ہوسکتا ہے۔ یہ ملک کی مجموعی زرعی پیداوار کا تقریباً 0.5 سے 0.9 فیصد بنتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف صنفی مساوات کا معاملہ نہیں بلکہ زرعی پیداوار اور مجموعی اقتصادی ترقی کے لیے بھی اہم ہے۔
زمین، قرض اور ٹیکنالوجی تک رسائی ضروری
خواتین کسانوں کو زمین، قرض، جدید ٹیکنالوجی، زرعی تربیت اور ادارہ جاتی تعاون تک بہتر رسائی فراہم کرنے سے نہ صرف ان کی آمدنی میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ زرعی پیداوار بھی بڑھ سکتی ہے۔ خواتین کی زرعی محنت کو مناسب طور پر تسلیم کرنا اور انہیں وسائل پر زیادہ اختیار دینا دیہی بھارت میں موجود مستقل صنفی آمدنی کے فرق کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…