قومی

MLC Election 2026: ایم ایل سی انتخابات، یوپی، بہار سمیت 4 ریاستوں میں ووٹنگ، 27 اکتوبر کو نتائج کا اعلان

نئی دہلی : اتر پردیش، بہار، مہاراشٹر اور کرناٹک میں قانون ساز کونسل کی 28 نشستوں کے لیے جمعہ کو ووٹنگ جاری ہے۔ ان انتخابات کو لے کر سیاسی جماعتوں میں سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ خاص طور پر اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے اسے سیاسی طاقت پرکھنے کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وہیں بہار میں بھی ان انتخابات کے نتائج پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔چاروں ریاستوں میں گریجویٹ اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں کی نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات میں متعلقہ حلقوں کے رجسٹرڈ گریجویٹ اور اساتذہ ووٹر اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔

اتر پردیش کی 11 نشستوں پر مقابلہ

اتر پردیش میں قانون ساز کونسل کی 11 نشستوں کے لیے ووٹنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی، جو شام 4 بجے تک جاری رہے گی۔ ریاست میں گریجویٹ کے 5 اور اساتذہ کے 6 انتخابی حلقوں میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ کانپور نگر، کانپور دیہات اور اناؤ کو چھوڑ کر ریاست کے 72 اضلاع میں ووٹنگ کرائی جا رہی ہے۔گریجویٹ انتخابی حلقوں میں آگرہ، میرٹھ، الٰہ آباد-جھانسی، لکھنؤ اور وارانسی شامل ہیں۔ وہیں اساتذہ کے انتخابی حلقوں میں آگرہ، میرٹھ، بریلی-مرادآباد، لکھنؤ، کاشی اور گورکھپور-فیض آباد میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ان انتخابات کو آئندہ اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی جماعتوں کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ نتائج سے متعلقہ علاقوں میں سیاسی جماعتوں کی مضبوطی اور ووٹروں کے رجحانات کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔

بہار میں 8 نشستوں کے لیے ووٹنگ

بہار میں قانون ساز کونسل کی 8 نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ان میں گریجویٹ کے 4 اور اساتذہ کے 4 انتخابی حلقے شامل ہیں۔ انتخابات میں مجموعی طور پر 150 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ تقریباً 5.32 لاکھ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل ہیں۔یہ انتخابات اس لیے بھی دلچسپ ہیں کہ اپوزیشن اتحاد میں شامل کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کئی انتخابی حلقوں میں ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ مقابلہ صرف امیدواروں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان سیاسی تال میل اور باہمی طاقت کا بھی امتحان ہے۔

مہاراشٹر اور کرناٹک میں بھی مقابلہ

مہاراشٹر میں قانون ساز کونسل کی 5 نشستوں کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ ان میں پونے، چھترپتی سمبھاجی نگر اور ناگپور کی گریجویٹ کی 3 نشستیں، جبکہ پونے اور امراوتی کی اساتذہ کی 2 نشستیں شامل ہیں۔ ان پانچوں نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 182 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔دوسری جانب کرناٹک میں 4 نشستوں کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں۔ یہاں گریجویٹ کے 2 اور اساتذہ کے 2 انتخابی حلقوں میں ووٹر اپنے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔

27 اکتوبر کو ہوگا فیصلہ

اتر پردیش اور بہار میں ووٹنگ کا وقت صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک مقرر کیا گیا ہے۔ ووٹ بیلٹ پیپر کے ذریعے ڈالے جا رہے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی 27 اکتوبر کو ہوگی۔گنتی کے بعد ہی واضح ہوگا کہ چاروں ریاستوں میں قانون ساز کونسل کی ان نشستوں پر کس جماعت اور امیدوار کو کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ ان نتائج سے نہ صرف متعلقہ انتخابی حلقوں میں سیاسی جماعتوں کی پوزیشن کا اندازہ ہوگا، بلکہ اتر پردیش اور بہار جیسے اہم سیاسی میدانوں میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Jio IPO Last Day: جیو آئی پی او میں سرمایہ کاری کا آج آخری دن، لسٹنگ پر کتنے منافع کی امید؟

جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ کے آئی پی او میں بولی لگانے کی آخری تاریخ 23…

2 hours ago

Wings Over Ganga Air Show: کاشی کے آسمان پر رافیل اور سخوئی کی گھن گرج، ونگز اوور گنگا‘ ایئر شو میں فضائیہ کے کرتب نے کیا مسحور

فضائی مظاہرے میں شامل ’پرچنڈ فارمیشن‘ نے بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیت، تیاری اور درست…

3 hours ago

Role Models: چین میں مشہور شخصیات کے بجائے سائنس دانوں کے پوسٹر، تاکہ بچے انہیں اپنا رول ماڈل بنا سکیں

ان پوسٹروں میں راکٹ سائنس دان چیان شوسن، جوہری طبیعیات کے ماہر ڈینگ جیاشیان، زرعی…

4 hours ago