قومی

Jio IPO Last Day: جیو آئی پی او میں سرمایہ کاری کا آج آخری دن، لسٹنگ پر کتنے منافع کی امید؟

نئی دہلی : ریلائنس انڈسٹریز کی ڈیجیٹل ذیلی کمپنی جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ کا 30,213 کروڑ روپے کا بڑا آئی پی او سرمایہ کاروں کے درمیان موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ ملک کے اس سب سے بڑے آئی پی او میں سرمایہ کاری کا آج، جمعہ 23 اکتوبر 2026 کو آخری دن ہے۔ آئی پی او کھلنے کے ابتدائی 100 منٹ کے اندر ہی اسے مکمل سبسکرپشن مل گیا تھا، جس سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔جیو پلیٹ فارمز کا یہ آئی پی او 21 اکتوبر کو کھلا تھا اور آج بند ہو رہا ہے۔ کمپنی اس کے ذریعے 30,213 کروڑ روپے جمع کر رہی ہے۔ یہ رقم 2024 میں آئے ہنڈائی موٹر انڈیا کے 27,870 کروڑ روپے کے آئی پی او سے بھی زیادہ ہے۔ کمپنی کے حصص کی الاٹمنٹ 26 اکتوبر اور اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ 28 اکتوبر 2026 کو طے کی گئی ہے۔

جیو آئی پی او کی اہم تاریخیں اور تفصیلات

جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ کے آئی پی او میں بولی لگانے کی آخری تاریخ 23 اکتوبر 2026 ہے۔ کمپنی نے اس اجرا کے تحت 27 کروڑ نئے حصص جاری کیے ہیں۔ حصص کی الاٹمنٹ 26 اکتوبر کو متوقع ہے، جبکہ 28 اکتوبر کو حصص اسٹاک ایکسچینج میں درج کیے جانے کا منصوبہ ہے۔

گرے مارکیٹ پریمیم سے کتنے منافع کی امید؟

آئی پی او کے گرے مارکیٹ پریمیم (جی ایم پی) سے متعلق غیر رسمی اشاروں کی بنیاد پر سرمایہ کار لسٹنگ کے وقت منافع کی امید کر رہے ہیں۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اگر حصص 1,359 روپے کی قیمت پر لسٹ ہوتے ہیں تو 12 حصص کی مجموعی مالیت 16,308 روپے ہوگی۔تاہم، یہاں سرمایہ کاری کی رقم کے حوالے سے درج اعداد و شمار میں فرق موجود ہے۔ اگر 12 حصص کی خریداری پر 13,428 روپے خرچ کیے گئے ہوں تو ممکنہ منافع 2,880 روپے بنتا ہے۔ لیکن یہ حساب اسی صورت میں درست ہوگا جب خریداری کی اصل قیمت 1,119 روپے فی حصص ہو۔ آئی پی او کی حتمی قیمت اور درست اعداد و شمار کی تصدیق ضروری ہے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ گرے مارکیٹ پریمیم غیر رسمی ہوتا ہے اور اس کی بنیاد پر یقینی منافع کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ اصل لسٹنگ قیمت مارکیٹ کی صورت حال اور سرمایہ کاروں کی طلب کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

آئی پی او سے حاصل رقم کہاں خرچ ہوگی؟

جیو پلیٹ فارمز اس آئی پی او میں نئے حصص جاری کر رہی ہے۔ کمپنی کی جانب سے جمع کی جانے والی رقم میں سے تقریباً 27,500 کروڑ روپے قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ اس سے کمپنی پر مالی بوجھ کم کرنے اور مستقبل میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی گنجائش بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

بروکریج اداروں کی کیا رائے ہے؟

موتی لال اوسوال سمیت بعض بروکریج اداروں نے اس آئی پی او کو درمیانی اور طویل مدت کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، براڈبینڈ، کاروباری ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں جیو پلیٹ فارمز کی توسیع مستقبل میں اس کی ترقی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ سرمایہ کاری سے پہلے کمپنی کی مالی صورت حال، آئی پی او کی قیمت، ممکنہ خطرات اور اپنی مالی ضروریات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ آئی پی او میں حصص کی الاٹمنٹ یا لسٹنگ کے وقت منافع کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Wings Over Ganga Air Show: کاشی کے آسمان پر رافیل اور سخوئی کی گھن گرج، ونگز اوور گنگا‘ ایئر شو میں فضائیہ کے کرتب نے کیا مسحور

فضائی مظاہرے میں شامل ’پرچنڈ فارمیشن‘ نے بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیت، تیاری اور درست…

2 hours ago

Role Models: چین میں مشہور شخصیات کے بجائے سائنس دانوں کے پوسٹر، تاکہ بچے انہیں اپنا رول ماڈل بنا سکیں

ان پوسٹروں میں راکٹ سائنس دان چیان شوسن، جوہری طبیعیات کے ماہر ڈینگ جیاشیان، زرعی…

3 hours ago

He treats him like his own child: اکھلیش سے ملاقات کے بعد بولیں اعظم خان کی اہلیہ، وہ انہیں اپنی اولاد کی طرح مانتے ہیں

اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے حوالے سے سوال پوچھے جانے پر تنظیم فاطمہ نے کہا…

4 hours ago