قومی

ادے ندھی اسٹالن کے متنازع بیانات نے کب، کہاں اور کیسے مچایا سیاسی ہنگامہ؟ جانئے پوری تفصیل؟

نئی دہلی: تمل ناڈو کی سیاست میں ڈی ایم کے رہنما اور اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ادے ندھی اسٹالن اپنے تند و تیز اور متنازع بیانات کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔ حال ہی میں اداکارہ ترشا سے متعلق مبینہ قابل اعتراض تبصرے کے معاملے میں ان کی گرفتاری کے بعد ایک بار پھر ان کے پرانے بیانات موضوع بحث بن گئے ہیں۔ اس سے قبل بھی سناتن دھرم، وی کے ششی کلا اور ریاستی گیت سے متعلق ان کے بیانات سیاسی اور قانونی تنازعات کا سبب بن چکے ہیں۔

ترشا سے متعلق مبینہ تبصرہ اور گرفتاری

تازہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب کاویری آبی تنازع کے سلسلے میں تنجاوور میں منعقد ایک احتجاجی پروگرام کے دوران ادے ندھی اسٹالن وزیراعلیٰ وجے کو نشانہ بنا رہے تھے۔ اسی دوران مجمع میں موجود بعض حامیوں نے اداکارہ ترشا کے نام کے نعرے لگائے، جس کے بعد ادے ندھی کی جانب سے دیے گئے مبینہ ردعمل پر شدید اعتراض کیا گیا۔ برسر اقتدار تملگا ویٹری کزگم (TVK) نے اسے خواتین کی توہین قرار دیا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ چنئی میں ان کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ گرفتاری کے بعد ادے ندھی نے کہا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور وہ قانونی کارروائی کا سامنا کریں گے۔

ریاستی گیت پر بیان بھی بنا تنازع

اسی سال ادے ندھی اس وقت بھی تنازع میں گھر گئے جب انہوں نے تمل ناڈو کے ریاستی گیت کو ’وندے ماترم‘ کے بعد بجائے جانے پر اعتراض ظاہر کیا۔ ان کے اس بیان کو تمل شناخت اور قومی علامات سے متعلق نئی سیاسی بحث کا سبب قرار دیا گیا۔ ڈی ایم کے نے اسے اپنی دراوڑی فکر کے مطابق قرار دیا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس بیان کو قوم مخالف اور تقسیم پیدا کرنے والا رویہ بتایا۔

سناتن دھرم پر بیان نے ملک گیر بحث چھیڑ دی

ستمبر 2023 میں منعقدہ ’سناتن اُنمُولن کانفرنس‘ میں ادے ندھی اسٹالن نے کہا تھا کہ بعض چیزوں کی صرف مخالفت نہیں کی جا سکتی بلکہ انہیں ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جس طرح مچھر، ڈینگی، ملیریا اور کورونا جیسی بیماریوں کا خاتمہ کیا جاتا ہے، اسی طرح سناتن دھرم کو بھی ختم کیا جانا چاہیے۔ اگرچہ بعد میں انہوں نے وضاحت دی کہ ان کا اشارہ ذات پات پر مبنی امتیازی نظام کی طرف تھا، لیکن اس بیان پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ بی جے پی سمیت متعدد تنظیموں نے اسے ہندو مذہب کی توہین قرار دیا اور مختلف ریاستوں میں ان کے خلاف مقدمات درج کرائے۔ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا، جہاں عدالت نے بھی ان کے بیان پر سخت برہمی ظاہر کی۔ بعد ازاں 2024 میں ادے ندھی نے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور انہوں نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔

اسمبلی میں بھی دہرایا سناتن دھرم کا موقف

قائد حزب اختلاف بننے کے بعد اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر کے دوران بھی ادے ندھی نے سناتن دھرم کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں تفریق پیدا کرنے والے نظام کو ختم ہونا چاہیے۔ تنازع بڑھنے پر انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد کسی مذہبی عقیدے یا مندروں میں جانے کے حق کی مخالفت نہیں، بلکہ ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے امتیاز کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔

وی کے ششی کلا سے متعلق تبصرہ

تمل ناڈو اسمبلی انتخابات 2021 کی انتخابی مہم کے دوران ادے ندھی اسٹالن نے اُس وقت کے وزیراعلیٰ ای پلانی سوامی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اقتدار بچانے کے لیے انہیں پارٹی سے نکالی گئی رہنما وی کے ششی کلا کی ’چپلیں تک اٹھانی پڑیں‘۔ اس بیان پر اپوزیشن جماعتوں اور خواتین تنظیموں نے سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے ایک سینئر خاتون رہنما کی توہین قرار دیا تھا۔

سیاسی تنازعات کے مرکز میں ادے ندھی

ترشا سے متعلق مبینہ تبصرہ، سناتن دھرم پر بیان، وی کے ششی کلا کے بارے میں تبصرہ اور ریاستی ترانے سے متعلق اظہارِ خیال یہ تمام واقعات وقتاً فوقتاً ادے ندھی اسٹالن کو سیاسی اور قانونی تنازعات کے مرکز میں لے آئے ہیں۔ ان کے بیانات نے نہ صرف تمل ناڈو بلکہ قومی سطح پر بھی شدید سیاسی ردعمل کو جنم دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

1 hour ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

2 hours ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

12 hours ago