نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے والی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ اس تناظر میں دفاعی ماہر پی کے سہگل نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران کے سب سے سنگین اثرات بھارت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ پی کے سہگل نے کہا کہ چاہے آبنائے ہرمز کھلی رہے یا بند ہو جائے، آنے والا وقت پوری دنیا کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہو سکتا ہے، تاہم بھارت کو طویل مدت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کے مطابق ایران میں حالیہ تنازعات کے باعث بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے، جہاں ریفائنریاں، پائپ لائنیں اور بندرگاہیں تباہی کا شکار ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تنصیبات کی بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت توانائی کے شعبے میں خاصا انحصار مشرق وسطیٰ پر کرتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کی تقریباً 88 فیصد ایل پی جی اور 20 فیصد ایل این جی اسی خطے سے آتی ہے، جبکہ 59 فیصد خام تیل بھی یہیں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک سے بھارت کو سالانہ 65 سے 70 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھی موصول ہوتی تھیں، جو اب متاثر ہو سکتی ہیں۔ دفاعی ماہر نے مزید کہا کہ اس بحران کے اثرات صرف توانائی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ زرعی اور صنعتی شعبے بھی اس سے بری طرح متاثر ہوں گے۔ بھارت میں کھاد بنانے کے لیے تقریباً 40 فیصد خام مال اسی خطے سے آتا ہے، جبکہ جنیرک ادویات کی تیاری کے لیے 35 سے 40 فیصد خام مال بھی ایران سے حاصل کیا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح پلاسٹک انڈسٹری کے لیے بھی 35 سے 40 فیصد خام مال اسی علاقے سے آتا تھا، جس کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کے لیے نہایت اہم عنصر ہیلیم کی تقریباً 45 فیصد سپلائی بھی اسی خطے سے ہوتی تھی۔ اگر اس کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو بھارت کے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کے منصوبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ پی کے سہگل کے مطابق اس تنازعے کے باعث عالمی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ فریٹ چارجز اور انشورنس اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے درآمدات اور برآمدات مہنگی ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت-مشرق وسطیٰ اقتصادی راہداری (آئی ایم ای سی) جیسے اہم منصوبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ امریکہ، متحدہ عرب امارات، بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعاون پر مبنی یو ٹو آئی ٹو گروپ بھی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے افغانستان کے ساتھ بھارت کی براہ راست رسائی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے علاقائی تجارت کو نقصان پہنچے گا۔ اسی طرح شمال-جنوب راہداری، جو روس اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کے لیے ایک اہم راستہ تھی، اس بحران کی وجہ سے سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔ دفاعی ماہر کا کہنا تھا کہ اگر صورتحال جلد قابو میں نہ آئی تو نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کو معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم بھارت کے لیے یہ بحران زیادہ سنگین اس لیے ہے کیونکہ اس کی معیشت کا بڑا حصہ توانائی اور بیرونی سپلائی پر منحصر ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں حکومت کو متبادل توانائی ذرائع تلاش کرنے، درآمدی انحصار کم کرنے اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے پر فوری توجہ دینی ہوگی تاکہ ممکنہ نقصان کو کم کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کم سے کم درجۂ حرارت میں کوئی خاص تبدیلی درج نہیں کی گئی، تاہم یہ…
ہندوستانی کپتان کی توجہ فی الحال ٹیم کے لیے نئے معیار قائم کرنے پر ہے۔…
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) نے بتایا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل (این…
مظاہرے کے دوران پولیس پر مار پیٹ کا الزام لگانے والی کیرالہ کی قانون کی…
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…
اتر پردیش اور بہار سمیت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر…