قومی

Sonam Wangchuk: اب کیا کرنے جا رہے ہیں سونم وانگچک؟ ابھجیت دیپکے بھی ساتھ، کیا بڑا اعلان

نئی دہلی :لداخ میں سونم وانگچک کی جانب سے 19 ستمبر سے ہونے والی پیدل یاترا کے اعلان پر کاکروچ جنتا پارٹی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ویڈیو جاری کرکے تمام لوگوں، خاص طور پر ’کاکروچوں‘ سے اس مہم کی حمایت کی اپیل کی تھی۔ اب سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔دیپکے نے ایکس پر سونم وانگچک کی ویڈیو کو دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’لداخ کے ساتھ کھڑے ہوں۔‘‘ سونم وانگچک نے اپنی ویڈیو میں بتایا کہ لداخ کے مستقبل اور جمہوری نظام سے متعلق حکومت اور لداخ کے نمائندوں کے درمیان ہوئی میٹنگ میں کوئی ٹھوس اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔ نمائندہ وفد کا کہنا ہے کہ تقریباً 4 ماہ بعد ہونے والی میٹنگ میں بھی مجوزہ جمہوری ڈھانچے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی تحریری مسودہ پیش نہیں کیا گیا۔

سونم وانگچک نے کہا کہ میٹنگ میں سوالات کی ایک فہرست دی گئی اور بتایا گیا کہ ان معاملات پر اگلی میٹنگ میں بات چیت کی جائے گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسمبلی، براہ راست حد بندی اور انتخابات جیسے موضوعات پر پہلے بھی بات ہو چکی ہے، لیکن اس میٹنگ میں ان مسائل پر کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

لداخ میں جمہوری ڈھانچے کا مطالبہ

سونم وانگچک نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ نمائندہ وفد کا بنیادی مطالبہ لداخ میں جلد از جلد جمہوری طریقے سے منتخب اسمبلی قائم کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تجویز کو پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس میں پیش کیا جانا چاہیے، تاکہ آگے انتخابات کرانے اور جمہوری اداروں کے قیام کا عمل شروع کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ اور لیفٹیننٹ گورنر مل کر لداخ کے لیے بڑے فیصلے کر رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو جمہوریت کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا۔ سونم وانگچک کے مطابق وفد نے حکومت سے یقین دہانی مانگی تھی کہ جب تک لداخ میں جمہوری ڈھانچہ قائم نہیں ہو جاتا، مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جن سے لداخ کی شکل ہی تبدیل ہو جائے۔

’لداخ میں ایک بڑی پیدل یاترا ہوگی‘

سونم وانگچک نے اعلان کیا کہ 19 ستمبر سے 24 ستمبر تک لداخ میں ایک بڑی پیدل یاترا نکالی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر حکومت کی جانب سے یقین دہانی مل جاتی ہے تو اس یاترا کو شہیدوں کی یاد میں منعقد ہونے والے ایک بڑے مارچ کی شکل دی جائے گی، لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو اسے احتجاج میں تبدیل کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ ہے کہ لداخ کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ سونم وانگچک نے مزید کہا کہ اس کے لیے پورے ہندوستان سے حمایت کی ضرورت ہے اور لداخ کو عوام کی حمایت درکار ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

5 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

5 hours ago