قومی

West Bengal Elections Violence: بنگال انتخابات سے قبل خونریز جھڑپیں، بی جے پی اور ٹی ایم سی کے حامیوں میں تصادم، 20 سے زائد زخمی

آج یعنی جمعرات کو مغربی بنگال کے ضلع ساؤتھ 24 پرگنہ کے باسنتی اسمبلی حلقے میں انتخابی مہم کے دوران بی جے پی اور ٹی ایم سی کے حامیوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی، جس میں کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے۔ مقامی پولیس کے مطابق، جھڑپ کے بعد 8 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ باسنتی اسمبلی حلقہ ایک محفوظ نشست کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں 29 اپریل کو دوسرے مرحلے کے انتخابات ہونے ہیں۔ اس واقعے نے مغربی بنگال میں انتخابات کے قریب تشدد کے رجحان کو دوبارہ ابھارا ہے، جو کئی حلقوں میں سیاسی کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے۔

مغربی بنگال میں انتخابات دو مرحلوں میں ہوں گے۔ پہلے مرحلے کا انتخاب 23 اپریل کو ہوگا، جبکہ دوسرے مرحلے میں 29 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، انتخابی سرگرمیوں کے دوران اس قسم کے جھڑپیں ووٹرز کے درمیان خوف و ہراس پیدا کر سکتی ہیں اور امن و امان کے مسائل کو بڑھا سکتی ہیں۔ ٹی ایم سی کے لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بیٹے، ابھیشیک بنرجی نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ ایس آئی آر کے ذریعے بھارت کے شہریوں کی ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کی سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی مذہب کی بنیاد پر سیاست کرتی ہے اور عوام کا توجہ بنیادی مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بنرجی نے مزید کہا کہ ملک میں ایسے لوگ جو صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں، انہیں اپنی شہریت کا ثبوت دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، مرکزی وزیر سکنتا مجومدار نے الیکشن کمیشن پر ممتا بنرجی کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک غیر جانبدار ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کمیشن کے خلاف ٹھوس ثبوت ہیں تو وہ عدالت میں مقدمہ دائر کرے۔ مجومدار نے دعویٰ کیا کہ اس بار مغربی بنگال میں بی جے پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے جا رہی ہے۔ بی جے پی مغربی بنگال کے صدر اور رکن پارلیمنٹ، سمیک بھٹاچاریہ نے ممتا بنرجی پر سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ’4 مئی دیدی گئی‘۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صرف دو مہینے کے لیے ہے اور اب ان کی رخصتی طے ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، باسنتی میں یہ خونریز جھڑپیں مغربی بنگال کے انتخابات کی کشیدگی اور بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی حریفانہ صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ نے علاقے میں اضافی سکیورٹی کے انتظامات کیے ہیں تاکہ انتخابی عمل میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے اور عوامی امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ انتخابی مہم کے دوران سیاسی تشدد کو روکنے اور امن قائم رکھنے کے لیے سخت نگرانی کی ضرورت ہے، خاص طور پر ایسے حلقوں میں جہاں پارٹیوں کے درمیان کشیدگی زیادہ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

SIR Controversy: ایس آئی آر پر این ڈی اے میں پھوٹ کے آثار! بی جے پی کے 3 بڑے اتحادی الیکشن کمیشن کے سامنے، مانگی وضاحت

چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…

25 minutes ago

Amit Shah Tribute: وزیر داخلہ امت شاہ کا خراج عقیدت: تیسرے پاتشاہ شری گرو امرداس جی کے جوتی جوت دیوس پر پیش کیا نمن

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سکھ مذہب کے تیسرے گرو، شری گرو امرداس جی…

51 minutes ago

Ishwar Chand Vidyasagar Jayanti: ’ورن پریچے‘ سے ’بیوہ کی دوبارہ شادی‘ تک، ایشور چندر ودیا ساگر کی خدمات کو امت شاہ نے ایسے کیا یاد

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بنگال نشاۃ ثانیہ کے عظیم ستون اور معروف سماجی…

2 hours ago

Virat Kohli: ویسٹ انڈیز سیریز میں بدلے گا وراٹ کوہلی کا بیٹنگ آرڈر؟ ٹیم مینجمنٹ کر سکتی ہے نیا تجربہ

وراٹ  کوہلی کو نمبر 3 سے ہٹانا اگرچہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔ وراٹ کوہلی نے…

2 hours ago