کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے ووٹ اسٹریٹجی ایجنسی آئی پی اے سی (I-PAC) کے دفتر پر کیے گئے چھاپوں کے خلاف 9 جنوری کو کولکاتا میں احتجاج کی قیادت کریں گی۔ یہ احتجاج مبینہ جعلی سرکاری نوکری گھوٹالے کی جانچ کے سلسلے میں ای ڈی کی کارروائی کے بعد کیا جا رہا ہے۔
ای ڈی کا سنگین الزام: اہم شواہد لے جانے کا دعویٰ
ای ڈی نے الزام لگایا ہے کہ چھاپے کے دوران وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کولکاتا میں پرتیک جین، جو آئی پی اے سی کے ڈائریکٹر ہیں، کی رہائش گاہ میں داخل ہو کر اہم شواہد اپنے ساتھ لے لیے، جن میں کاغذی دستاویزات اور الیکٹرانک آلات شامل تھے۔ ای ڈی کے مطابق، تلاشی کارروائی اس وقت تک پُرامن اور پیشہ ورانہ انداز میں جاری تھی، جب تک وزیراعلیٰ بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کے ساتھ وہاں نہیں پہنچیں۔
پارٹی ڈیٹا ضبط کرنے کا الزام، امت شاہ کو چیلنج
اس سے قبل جمعرات کو ممتا بنرجی نے ایک عوامی سڑک پر واقع آئی پی اے سی کے دفتر کا دورہ کیا اور الزام لگایا کہ مرکزی ایجنسی نے غیر قانونی طور پر پارٹی سے متعلق ڈیٹا، لیپ ٹاپس، موبائل فونز اور انتخابی حکمتِ عملی کی دستاویزات ضبط کی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چھاپے کے دوران فرانزک ماہرین نے ڈیٹا منتقل کیا، جسے انہوں نے ایک ’’جرم‘‘ قرار دیا، اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو چیلنج دیا کہ وہ بنگال میں ترنمول کانگریس سے جمہوری طریقے سے مقابلہ کریں۔
آئی پی اے سی کو پارٹی کی مجاز ٹیم قرار دیا
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئی پی اے سی کوئی نجی ادارہ نہیں بلکہ آل انڈیا ترنمول کانگریس (AITC) کی مجاز ٹیم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ای ڈی نے پارٹی کے حساس دستاویزات ضبط کیے، جن میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سے متعلق انتخابی فہرستوں کا ڈیٹا بھی شامل ہے، حالانکہ ترنمول کانگریس ایک باقاعدہ رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے جو باقاعدگی سے انکم ٹیکس تفصیلات جمع کراتی ہے۔
بی جے پی کا جوابی حملہ، گہری سازش کا دعویٰ
دوسری جانب بی جے پی نے ممتا بنرجی کے آئی پی اے سی دفتر کے دورے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بی جے پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ وزیراعلیٰ کے اقدامات کئی ’’تشویشناک سوالات‘‘ کو جنم دیتے ہیں اور یہ کسی ’’گہری سازش‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بی جے پی کے مطابق، ایک برسرِ اقتدار وزیراعلیٰ کا تفتیشی مقام پر پہنچ کر پارٹی فائلیں اور ہارڈ ڈسکس محفوظ کرنے کی کوشش کرنا محض ڈیمیج کنٹرول نہیں بلکہ ممکنہ ثبوت چھپانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
سیاسی محاذ آرائی تیز، احتجاج پر نظریں
بی جے پی نے سوال اٹھایا کہ اگر مغربی بنگال میں چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے تو وزیراعلیٰ کو تفتیشی مقام پر پہنچنے کی کیا ضرورت تھی۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ سچ جلد سامنے آئے گا اور بنگال کے عوام بی جے پی کے حق میں ووٹ دیں گے۔ ای ڈی کی کارروائی، ممتا بنرجی کے احتجاجی اعلان اور بی جے پی کے جوابی حملے کے بعد مغربی بنگال میں سیاسی درجۂ حرارت تیزی سے بڑھ گیا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ…
اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو…
تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…