پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی الیکشن کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں۔ پانچ ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ سب سے بڑی خبرمغربی بنگال سے آرہی ہے، جہاں اسمبلی الیکشن کے نتائج کے ابتدائی رجحان میں بی جے پی حکومت بناتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ اگریہ کہا جائے کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی آندھی چل رہی ہے توغلط نہیں ہوگا۔ مغربی بنگال کے 292 سیٹوں کی گنتی ہورہی ہے، جس میں بی جے پی 167 سیٹوں پرآگے چل رہی ہے جبکہ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس 120 سیٹوں پرآگے ہے۔ یہ رجحان 10:15 منٹ کے ہیں۔ اب تک کے رجحان میں بی جے پی اکثریت سے کافی اوپرچل رہی ہے۔ حالانکہ ابھی تک صرف سوا دو گھنٹے کی ووٹوں کی گنتی ہوئی ہے، اس لئے ابھی حتمی طورپرکچھ نہیں کہا جاسکتا ہے، لیکن رجحانوں میں بی جے پی اکثریت حاصل کرتی ہوئی نظرآرہی ہے۔
دونوں پارٹیاں کررہی ہیں اپنا اپنا دعویٰ
آپ کوبتا دیں کہ آج مغربی بنگال کے294 سیٹوں میں 293 سیٹوں پرووٹوں کی گنتی ہورہی ہے۔ بی جے پی اورترنمول کانگریس میں زبردست مقابلہ دیکھنے کومل رہا ہے۔ ریاست کے 25 اضلاع کے 77 مراکزپرووٹوں کی گنتی ہورہی ہے۔ وہیں پھلتا اسمبلی سیٹ پر21 مئی کوپھرسے ووٹنگ کرائی جائے گی اور24 مئی کونتیجے آئیں گے۔ دراصل، 29 اپریل کوہوئے الیکشن کے دوران یہاں زبردست انتخابی بدعنوانیوں کے الزام لگے تھے۔ مغربی بنگال اسمبلی الیکشن کے نتائج سے متعلق ہرسیاسی پارٹی کے لیڈراپنی اپنی جیت کے الگ الگ دعوے کررہے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ مغربی بنگال اسمبلی الیکشن 2021 میں کس پارٹی کوکتنی سیٹیں ملی تھیں؟ آئیے جانتے ہیں کہ 2021 کے الیکشن میں کس پارٹی کواکثریت ملی تھی۔
ممتا بنرجی کی پارٹی کو لگ سکتا ہے بڑا جھٹکا
مغربی بنگال اسمبلی الیکشن 2021 میں ترنمول کانگریس نے زبردست جیت حاصل کرتے ہوئے مسلسل تیسری بارحکومت بنائی تھی۔ اس الیکشن میں ترنمول کانگریس کو215 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔ اس کے بعد بی جے پی کو 77 سیٹوں پرجیت ملی تھی۔ وہیں، دیگرپارٹیوں کے کھاتے میں 2 سیٹیں گئی تھیں۔ الیکشن میں ترنمول کانگریس کا ووٹ شیئرتقریباً 48 فیصد سے زیادہ تھا۔ وہیں بی جے پی کا ووٹ شیئر38 فیصد سے زیادہ رہا تھا۔ حالانکہ 2026 کے الیکشن میں بی جے پی ممتا بنرجی کو بڑا جھٹکا دیتی ہوئی نظرآرہی ہے۔
اسمبلی الیکشن 2026 میں زبردست مقابلہ
مغربی بنگال اسمبلی الیکشن 2026 میں ایک بارپھرسے ترنمول کانگریس اوربی جے پی کے درمیان سخت مقابلہ ہوا ہے۔ ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی ڈیڑھ گھنٹے کے رجحان میں بی جے پی کافی آگے نکل گئی ہے۔ بی جے پی اورترنمول کانگریس کے لیڈران الگ الگ دعوے کررہے ہیں۔ ٹی ایم سی نے 200 سے زیادہ سیٹیں جیتنے کی امید ظاہرکی ہے۔ تووہیں بی جے پی لیڈر شوبھیندوادھیکاری نے کہا ہے کہ سناتن کا تحفظ کرنے والی حکومت آرہی ہے۔ تو وہیں عام جنتا انین پارٹی کے لیڈر ہمایوں کبیرنے کنگ میکرکا کردارنبھانے کا دعویٰ کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
فائنل کا آغاز کم کم موہود کے لیے آسان نہیں تھا۔ انہیں پہلے سیٹ میں…
دہلی-این سی آر اور آس پاس کے علاقوں میں گزشتہ دنوں ہوئی بارش کے بعد…
’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام میں سیاسی، سماجی اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی…
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…