قومی

West Bengal Assembly Dissolved On Governor Orders: مغربی بنگال میں گورنر نے اسمبلی تحلیل کر دی، ممتا بنرجی کے استعفیٰ سے انکار کے بعد بڑا آئینی قدم

مغربی بنگال کی سیاست میں ایک بڑا آئینی اور سیاسی موڑ اس وقت سامنے آیا جب ریاست کے گورنر آر این روی نے 2026 کے اسمبلی انتخابات کے بعد موجودہ اسمبلی کو باضابطہ طور پر تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا جب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے انتخابی شکست کے باوجود اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا تھا اور انتخابات میں مبینہ ووٹ چوری کے الزامات عائد کیے تھے۔ گورنر کی جانب سے اسمبلی تحلیل کیے جانے کے بعد ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور 17ویں قانون ساز اسمبلی کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق گورنر آر این روی نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 174 کی شق 2 کے ذیلی کلاز (بی) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس فیصلے کا باضابطہ اعلان 6 مئی 2026 کو جاری کیے گئے ایک خصوصی گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے کیا گیا، جس کا نمبر 275-P.A./1L-03/2026 بتایا گیا ہے۔ پارلیمانی امور کے محکمے کی جانب سے جاری اس نوٹیفکیشن کے مطابق 7 مئی 2026 سے مغربی بنگال اسمبلی رسمی طور پر تحلیل تصور کی جائے گی۔

گورنر کے دستخط شدہ اس حکم نامے کو ریاست کے چیف سیکریٹری دشینت نریالا نے عوامی مفاد میں جاری کیا۔ آئینی ماہرین کے مطابق انتخابات کے بعد نئی حکومت کی تشکیل سے پہلے پرانی اسمبلی کو تحلیل کرنا ایک معمول کا آئینی عمل ہے، لیکن اس مرتبہ معاملہ اس لیے زیادہ اہم بن گیا کیونکہ ممتا بنرجی نے اقتدار چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست کی 293 نشستوں میں سے 207 پر جیت درج کی ہے۔ اس تاریخی جیت کے ساتھ ہی مغربی بنگال میں پہلی بار بی جے پی حکومت بنانے جا رہی ہے۔ دوسری جانب ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد تقریباً 15 برس بعد وہ اقتدار سے باہر ہو گئی ہیں۔

انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا تھا کہ تقریباً 100 نشستوں پر ووٹوں کی چوری ہوئی ہے اور انہیں جان بوجھ کر ہرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ حقیقت میں انتخابات نہیں ہاریں بلکہ انتخابی عمل میں دھاندلی کے ذریعے انہیں شکست دی گئی۔ اسی بنیاد پر انہوں نے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد ریاستی سیاست میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق گورنر کا یہ اقدام آئینی بحران سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ نئی منتخب اسمبلی کی تشکیل اور حکومت سازی کا عمل بغیر رکاوٹ مکمل ہو سکے۔ اسمبلی تحلیل ہونے کے ساتھ ہی ممتا بنرجی کا بطور وزیر اعلیٰ آئینی دور بھی ختم ہو گیا ہے اور اب نئی حکومت کے حلف برداری کی تیاری تیز کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت سازی کے لیے سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جمعرات کی رات کولکاتا پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ پارٹی کے سینئر لیڈروں کے ساتھ آئندہ حکمت عملی پر بات چیت کریں گے۔ جمعہ کو بی جے پی کے نومنتخب ارکان اسمبلی کی اہم میٹنگ طلب کی گئی ہے، جس میں قانون ساز پارٹی کے لیڈر کا انتخاب کیا جائے گا۔ یہی لیڈر بعد میں ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لے گا۔ اطلاعات کے مطابق 9 مئی کو کولکاتا کے مشہور بریگیڈ میدان میں نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہونے کا امکان ہے۔ اس تقریب میں پارٹی کی مرکزی قیادت، مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور بڑی تعداد میں کارکنوں کی شرکت متوقع ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو مغربی بنگال کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ریاست میں پہلی مرتبہ بی جے پی اقتدار سنبھالنے جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

School Roof Collapses in Pakisan’s Peshawar: پاکستان کے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے دردناک حادثہ، کم از کم 29 بچوں کی موت، 40 زخمی، ویڈیو وائرل

پشاور کے کیپٹل سٹی پولیس افسر ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت میں…

19 minutes ago

Cheque Bounce Case: چیک باؤنس معاملہ میں سپریم کورٹ نے راجپال یادو کا پاسپورٹ جاری کرنے کا دیا حکم

سماعت کے دوران راجپال یادو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اداکار کو ایک…

1 hour ago

New Delhi Railway Station: نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر کئی ٹرینوں کے پلیٹ فارم تبدیل، وندے بھارت، سوَتنترتا سینانی اور شرم جیوی سمیت متعدد ٹرینیں شامل

تہواروں کے دوران بڑھتی ہوئی بھیڑ اور سکیورٹی انتظامات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی دہلی،…

3 hours ago

Bollywood Actor Imran Khan: اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک ہندوستان چھوڑنے کا نوٹس، 10 اکتوبر کو احتجاج میں ہوئے تھے شامل

عمران خان کے معاملے میں اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ کا موضوع…

4 hours ago