قومی

West Bengal SIR 2026: بنگال ایس آئی آرپر سپریم کورٹ نے کہا- بھارت میں پیدا ہوئے شخص کو ووٹ دینے کا اختیار، ووٹ کٹنے سے جیت کا فرق کم ہونے پر…

نئی دہلی: مغربی بنگال میں اسمبلی الیکشن کی تیاریاں عروج پرہیں وہیں دوسری طرف ووٹرلسٹ سے متعلق معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی ہے۔ عدالت نے کل پیرکے روز سماعت کے دوران یہ تبصرہ کیا کہ ملک میں پیدا ہوئے کسی بھی شخص کو ووٹرلسٹ میں شامل ہونے اور حکومت منتخب کرنے کے لئے ووٹ دینے کا اختیارہے۔ عدالت کے اس تبصرہ کے بعد ریاست کی سیاست مزید گرما سکتی ہے کیونکہ اسے ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) بڑا انتخابی ہتھیار بنا سکتی ہے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت کی قیادت والی بینچ کے رکن، جسٹس جائے مالا باغچی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا، ”کہیں نہ کہیں ہم آئندہ الیکشن کی گہماگہمی اورشورشرابے کے درمیان اندھے ہوتے جا رہے ہیں، جس ملک میں آپ کی پیدائش ہوئی ہے، وہاں ووٹرلسٹ میں بنے رہنے اور ووٹ دینے کا اختیارنہ صرف آئینی ہے، بلکہ جذباتی بھی ہے۔“

جمہوری حکومت منتخب کرنے کا عمل کافی اہم: سپریم کورٹ

انہوں نے یہ بھی کہا، ”یہ قومیت اورحب الوطنی کی سب سے بڑی آزادی بھی ہے کہ آپ ایک جمہوری حکومت منتخب کرنے کے عمل میں سرگرم طورپر شامل ہو رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے، جس پرہمیں سنجیدگی سے غورکرنے کی ضرورت ہے۔“ جسٹس باغچی نے یہ بھی کہا کہ اوریجنل ایس آئی آرعمل میں سال 2002 کی ووٹرلسٹ میں شامل لوگوں کو دوبارہ جانچ کرنے کا کوئی سسٹم نہیں تھا۔ جج نے اس سوال پرکوئی واضح اشارہ نہیں دیا کہ آیا ہندوستان میں مائیگرنٹ تارکین وطن سے پیدا ہونے والے بچوں کو بھی وہی ووٹنگ کا حق دیا جائے گا، جو عام شہریوں کی طرح پیدا ہونے والے بچوں کوملتا ہے۔ تاہم، بنچ نے ان لوگوں کو ووٹ دینے کی اجازت دینے کی درخواست کومسترد کردیا، جنہیں اپیلٹ ٹربیونلزنے ووٹ دینے کا اہل قراردیا تھا۔

سپریم کورٹ نے ازسرنوغورکرنے سے متعلق کیا کہا؟

سینئرایڈوکیٹ ڈی ایس نائیڈونے، الیکشن کمیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آرکے عمل کے بارے میں کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے، کیونکہ نام ہٹائے جانے کی شرح تقریباً دیگرریاستوں میں ووٹرلسٹوں سے ہٹائے گئے ووٹروں کے فیصد کے برابرہی ہے۔ اس معاملے پربحث اس وقت شروع ہوئی، جب سینئرایڈوکیٹ رؤف رحیم نے دلیل دی کہ جن لوگوں کواپیلٹ ٹربیونلزنے ووٹ دینے کا اہل قراردیا ہے، انہیں ووٹرلسٹ ’فریز‘ ہونے کے باوجود ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ جسٹس باغچی نے کہا، ”ہمیں اس بات سے کوئی سروکارنہیں ہے کہ بنگال اس معاملے میں سب سے الگ ہے یا ایس آئی آرکے عام عمل کا حصہ ہے۔ تاہم دیگرریاستوں میں ‘منطقی تضاد’ کے اس زمرے کا مشاہدہ نہیں کیا گیا ہے۔ جانچ پڑتال کے دوران مناسب معاملوں میں سماعت کی سہولت دستیاب ہوتی ہے، لیکن عدالتی افسران کے ذریعہ کی گئی تحقیقات کے دوران یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ اس کی اہم وجہ کام کے زیادہ بوجھ اورالیکشن کا قریب ہونا رہا۔“

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

6 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

6 hours ago