تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کی 90ویں سالگرہ کے موقع پر ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں بین المذاہب رہنماؤں کا ایک خصوصی اجتماع منعقد ہوا۔ اس موقع پر جین مُنی آچاریہ لوکیش مُنی نے امن اور مذاکرات کا پیغام دیا۔ آچاریہ لوکیش مُنی نے کہا کہ جنگ اور تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ مذاکرات سے ہی امن قائم ہو سکتا ہے اور مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
آچاریہ لوکیش مُنی نے زور دے کر کہا کہ مذہب ہمیں متحد ہونے کا پیغام دیتا ہے، تقسیم کرنے کا نہیں۔ مذہب میں تشدد، نفرت یا خوف کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ دریں اثنا اس تقریب میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے متحد ہو کر دلائی لامہ کی لمبی اور صحت مند زندگی کی خواہش کی۔ انھوں نے کہا کہ دلائی لامہ کی زندگی امن، ہمدردی اور انسانیت کی مثال ہے۔
ہم ’بدھ‘ چاہتے ہیں ’یُدھ‘ نہیں: آچاریہ لوکیش مُنی
آچاریہ لوکیش نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’ہم ’بدھ‘ چاہتے ہیں، ’یُدھ‘ نہیں۔ ان کا یہ پیغام دلائی لامہ کے عدم تشدد اور امن کے فلسفے کو مزید تقویت دیتا ہے۔ دھرم شالہ میں منعقدہ اس پروگرام میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے متفقہ طور پر امن اور ہم آہنگی کی اپیل کی۔ انھوں نے دنیا میں بڑھتے ہوئے تشدد اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت اور تعاون کو فروغ دینے پر بات کی۔
یہ تقریب نہ صرف دلائی لامہ کے احترام کی علامت تھی بلکہ عالمی امن اور اتحاد کے لیے ایک مضبوط پیغام بھی دے گئی۔ اس موقع پر موجود لوگوں نے دلائی لامہ کے امن کے پیغام کو پوری دنیا میں پھیلانے کا عہد کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا، سماج وادی پارٹی کے لوگوں اور تمہارے…
اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی،…
مقامی لوگوں نے کہا کہ افسران اور ملازمین مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ جب بھی…
سال 1564 میں جب آصف خان کی قیادت میں ایک بڑی مغل فوج نے گونڈوانا…
اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…
دوسری جانب ون ڈے سیریز میں بھارت کو سخت ٹکر دینے کے بعد ویسٹ انڈیز…