نئی تعلیمی پالیسی 2021 کو عملی جامہ پہنانے میں بہت ساری ریاستیں ابھی تک ناکام ثابت ہوئی ہیں اور کئی غیر بی جے پی ریاستوں نے نافذ کرنے سے ہی انکار کردیا ہے۔ اس لسٹ میں کیرلہ اور تمل ناڈو کا نام پہلے سے ہی درج ہے ، البتہ اب ایک اور نام درج ہونے جارہا ہے جس نے نیو ایجوکیشن پالیسی کو خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ریاست کرناٹک ہے جہاں کانگریس کی حکومت نے یہ طے کیا ہے کہ وہ نئی تعلیمی پالیسی کو خارج کرکے ریاستی تعلیمی پالیسی تیار کرکے نافذ کرے گی۔ حکومت نے اس کیلئے باضابطہ طور پر ایک کمیٹی بنا کر ریاستی تعلیمی پالیسی اخذکرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت آئندہ تعلیمی سال سے کرناٹک میں قومی نئی تعلیمی پالیسی کو ختم کردیا جائے گا۔
دراصل کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے کہا ہے کہ کرناٹک حکومت نے تمام وائس چانسلرز اور بہت سارے ایکیڈمیشین کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی 2021 میں لائی گئی تھی ،لیکن میں ایک بات آپ کو بتادوں کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں سے کسی نے بھی اس میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں لی۔ کیرلہ اور تمل ناڈو جیسی ریاستیں پہلے ہی این ای پی کو مسترد کرچکی ہیں ۔ ہم نے تمام پہلو سے اس کا جائزہ لیا ہے اور یہ طے کیا ہے کہ یہ ہمارے بچوں کیلئے بہت زیادہ سود مند نہیں ہے اس لئے ہماری حکومت بھی ریاست میں نئی تعلیمی پالیسی کو خارج کرنے جارہی ہے۔ آئندہ سال ہماری اپنی تعلیمی پالیسی ہوگی۔ ہم ایک ہفتے میں ایک کمیٹی تشکیل دے کر اس پر کام شروع کردیں گے۔
بھارت ایکسپریس۔
وزیر اعظم مودی سمیت لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و…
شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے قائم مقام صدر ایمان سنگھ مان نے کہا کہ وہ…
شریئس ائیر کی کپتانی میں بھارتی ٹیم اب یکم اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل مقابلہ…
۔اس معاملے میں بس کی نگرانی کے انتظامات پر بھی سوال اٹھے تھے۔ بتایا گیا…
میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…
برطانوی حکومت نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو 23 مارچ 1931 کو…