ثانوی اور اعلیٰ ثانوی اسکولوں کے برطرف اساتذہ کے جاری احتجاج کے درمیان مغربی بنگال اسکول سروس کمیشن (ڈبلیو بی ایس ایس سی) نے ’’داغدار‘‘ اور ’’غیر داغدار‘‘ امیدواروں کی ایک فہرست از سرِ نو تصدیق کے لیے ریاستی محکمۂ تعلیم کو بھیجی ہے۔ دی نیو انڈین ایکسپریس نے ایک سینئر افسر کے حوالے سے بتایا کہ 13 اپریل کو بھیجی گئی اس فہرست میں مبینہ طور پر سپریم کورٹ کے 3 اپریل کے حکم سے متاثرہ امیدواروں کو نشان زد کیا گیا ہے، جس نے 2016 کی بھرتی کے عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی وجہ سے تقریباً 26,000 تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تقرریوں کو کالعدم قرار دیا تھا۔
فہرست میں ’’داغدار‘‘ اور ’’غیر داغدار‘‘ کے طور پر نشان زد کیے گئے ہیں برطرف اساتذہ
اہلکار کے مطابق فہرست میں داغدار امیدواروں کے طور پر ان لوگوں کو درجہ بند کیا گیا ہے، جن کی او ایم آر شیٹس میں تضاد ہے یا جنھوں نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی کے ذریعے رینک سے زیادہ اعلیٰ ملازمتیں حاصل کی ہیں۔ ساتھ ہی ’’غیرداغدار‘‘ کے طور پر ان اساتذہ کی تفصیلات شامل ہیں جو خالص میرٹ کی بنیاد پر ملازمت کے لیے اہل پائے جاتے ہیں۔ اہلکار نے کہا ’’اس فہرست کی تصدیق کی جا رہی ہے۔‘‘
اس سے پہلے وزیر تعلیم برتیا باسو نے پہلے اعلان کیا تھا کہ قانونی مشاورت کے بعد 21 اپریل تک یہ فہرست WBSSC کی ویب سائٹ پر عام کر دی جائے گی۔ انھوں نے 11 اپریل کو کہا کہ ہم ناموں کو شائع کرنے سے پہلے قانونی ماہرین سے مشورہ لیں گے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد، بہت سے برطرف اساتذہ نے دلیل دی ہے کہ SSC جعلی اور حقیقی امیدواروں کے درمیان فرق کرنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں تمام تقرریوں کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا۔ اور انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مستحق امیدواروں کی بحالی کے لیے کوئی طریقۂ کار تلاش کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو
کے ٹی ایل اے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، ملبے سے کم از کم ایک…
مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…
حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…
وائرل ویڈیو نے ایک بار پھر پولیس محکمہ میں نظم و ضبط اور وردی کے…
اس شلوک کا مفہوم ہے کہ جس شخص کا ذہن تذبذب سے پاک، جو نظم…
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…