آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی۔
نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے ’آپریشن سندور‘ پر پارلیمنٹ میں جاری بحث کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسی پر سخت سوالات اٹھائے۔ انہوں نے حکومت کی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو لے کر دوہرے معیار پر شدید تنقید کی اور کہا کہ جب وزیراعظم خود کہتے ہیں کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے، اور دہشت گردی و بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتی، تو پھر کرکٹ میچ کھیلنے کی اجازت کیسے دی جا رہی ہے؟
تجارت بند، پانی بند، مگر کرکٹ زندہ؟
اویسی نے نشاندہی کی کہ حکومت نے پاکستان کے ساتھ تجارت بند کر رکھی ہے، ان کی کشتیاں ہندوستانی پانیوں میں داخل نہیں ہو سکتیں، تو ایسے میں کرکٹ میچ کیسے ممکن ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر خون اور پانی ساتھ نہیں بہہ سکتے، تو کرکٹ اور خون کیسے ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟ میرا ضمیر مجھے یہ میچ دیکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔
وادی بیسران پر حملے کے متاثرین کو انصاف کہاں؟
اپنے خطاب میں اویسی نے وادی بیسران حملے کا ذکر کرتے ہوئے حکومت پر سوال کیا کہ حملے کے متاثرین کے لیے کیا انصاف ملا؟ انہوں نے کہا کہ “چار دہشت گرد ہماری سرحد میں گھس کر شہریوں کو مار جاتے ہیں، ان کا احتساب کہاں ہے؟ حکومت کے بیانات تضاد سے بھرے ہیں۔ پہلے کہا گیا وادی بند ہے، پھر پتہ چلا سال بھر کھلی رہتی ہے۔ آخر حقیقت کیا ہے؟
پاکستان، اسرائیل اور امریکہ پر طنز
اویسی نے پاکستان اور اسرائیل کو ’ناکام ریاستیں‘ قرار دیا اور امریکہ پر بھی سخت الفاظ میں تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آرمی چیف اس ملک کے صدر کے ساتھ کھانے کی میز پر بیٹھا ہے جس کی تقریر سے ہمارے لوگ مارے گئے۔ اگر یہ ہماری خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے، تو یہ شرم کی بات ہے۔ انہوں نے امریکہ کو دوست ماننے پر بھی سوال اٹھایا کہ ایک سفید فام آدمی وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر جنگ بندی کا اعلان کرتا ہے اور ہم اسے مان لیتے ہیں؟ کیا یہ ہماری خودمختاری ہے؟
چین اور FATF پر حکومت کی خاموشی
اویسی نے چین کے ساتھ تعلقات پر بھی حکومت سے وضاحت مانگی کہ کیا بھارت نے کبھی چین سے سوال کیا کہ وہ پاکستان کو ہتھیار کیوں دے رہا ہے؟ اگر ہم وشو گرو ہیں، تو ہمیں امریکہ، جی7 اور خلیجی ممالک کو آمادہ کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان کو دوبارہ FATF کی واچ لسٹ میں ڈالیں۔
خارجہ پالیسی کو سیاست کا ہتھیار نہ بنائیں
اپنے خطاب کے اختتام پر اویسی نے مرکزی حکومت کو مشورہ دیا کہ قومی سلامتی جیسے حساس معاملات کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔ انہوں نے گلوان تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب امریکہ نے اس وقت ثالثی کی بات کی تھی تو ہم نے ٹھکرا دیا، مگر آج جب ٹرمپ ایک بیان دے دیتے ہیں، تو ہم اس پر خاموش کیوں ہیں؟ کیا یہ ہماری سفارتی کمزوری نہیں؟ اسد الدین اویسی کا خطاب حکومت کی پاکستان پالیسی، کرکٹ تعلقات اور خارجہ پالیسی پر سخت سوالات سے بھرا ہوا تھا۔ ان کے بیانات نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں ہلچل مچائی بلکہ عوامی سطح پر بھی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا دہشت گردی کے سائے میں کھیل، تجارت اور سفارت کاری کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جا سکتا ہے؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…