قومی

Waqf Amendment Act 2025: وقف قانون پرسپریم کورٹ میں بحث جاری، مسلم فریق کی دلیل پرسالسٹرجنرل تشارمہتا نے کردیا یہ بڑا دعویٰ

نئی دہلی: وقف ترمیمی قانون کے خلاف داخل عرضیوں پربدھ (21 مئی، 2025) کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے کہا کہ کوئی بھی عرضی گزارذاتی طورپرقانون سے متاثرنہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف کچھ لوگ عرضی داخل کرکے پورے مسلم طبقے کا نمائندہ نہیں بن سکتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جن چیزوں سے انہیں پریشانی ہے، پورا مسلم طبقہ بھی وہی سوچتا ہے۔

مرکزکی طرف سے سالسٹرجنرل تشارمہتا پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے غوروخوض کرکے قانون بنایا اورقانون بنائے جانے سے پہلے لاکھوں لوگوں کے مشورے لئے گئے۔ سالسٹرجنرل تشارمہتا نے کہا کہ کچھ لوگ خود کوپورے مسلم طبقے کا نمائندہ نہیں بتا سکتے اور وقف قانون میں 1923 سے ہی کمی چلی آرہی تھی، جسے درست کیا گیا ہے۔

سالسٹر جنرل نے عدالت میں دی یہ دلیل

منگل کے روزبھی اس معاملے میں سماعت ہوئی تھی، جس میں عرضی گزاروں کی طرف سے سینئرایڈوکیٹ کپل سبل، ابھیشیک منو سنگھوی، راجیودھون اورحذیفہ احمدی نے دلیلیں دیں۔ آج سالسٹرجنرل تشارمہتا نے مرکزی حکومت کا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ 1923 سے 1995 کے قانون کا انتظام تھا کہ صرف مسلمان ہی وقف کرسکتا تھا، لیکن سال 2013 میں الیکشن سے پہلے قانون بنا دیا گیا کہ کوئی بھی وقف کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسے سدھارا ہے اوروقف کرنے کے لئے کم ازکم 5 سال سے مذہب اسلام پرعمل کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ سالسٹرجنرل تشارمہتا نے کہا کہ اگرکوئی کسی جگہ کا استعمال کررہا ہے، اس کے پاس اس جگہ کے کاغذات نہیں ہیں اوراس کا دعویٰ ہے کہ یہ غیررجسٹرڈ وقف بائی یوزرہے۔ حکومت کے ریکارڈ میں جائیداد سرکاری ہے توکیا اس کی جانچ نہیں ہوگی؟ عرضی گزاروں نے کل سماعت میں جائیداد کے رجسٹریشن پراعتراض ظاہرکیا تھا اورکہا تھا کہ 200-100 سال پرانے وقف کے کاغذات کہاں سے آئیں گے۔

چیف جسٹس بی آرگوئی نے کیا کہا؟

تشارمہتا کی دلیل پرچیف جسٹس بی آرگوئی نے کہا کہ لیکن عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ حکومت خود ہی اپنے دعوے کی جانچ کرے گی۔ تشارمہتا نے کہا کہ لینڈ ریوینیوریکارڈ کی جانچ ریونیوآفیسرکریں گے۔ سالسٹرجنرل نے کہا کہ لوگوں کوکلکٹرکی جانچ سے پریشانی تھی، تو دوسرا افسرطے کیا گیا۔ وہ صرف ریوینیو ریکارڈ کی جانچ کرکے ترمیم کرے گا۔ چیف جسٹس نے سالسٹرجنرل سے پوچھا کہ یعنی صرف کاغذات میں انٹری ہوگی۔ تشارمہتا نے چیف جسٹس بی آرگوئی کے سوال پرکہا، جی ہاں، اگرحکومت ملکیت چاہتی ہے تودیوانی مقدمہ بھی دائرکرے گی۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

2 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

3 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

4 hours ago