صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے وقف ترمیمی بل کو منظوری دے دی۔
نئی دہلی: وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس ہونے کے بعد اب قانون بھی بن گیا ہے۔ اسے صدرجمہوریہ کی منظوری مل گئی ہے۔ لوک سبھا اورراجیہ سبھا سے پاس ہونے کے بعد وقف ترمیمی بل کومنظوری کے لئے صدرجمہوریہ کے پاس بھیجا گیا تھا۔ صدرجمہوریہ کے دستخط کے ساتھ ہی وقف ترمیمی بل اب قانون بن گیا، جوکہ پورے ملک میں نافذ ہوگا۔ آپ کوبتادیں کہ لوک سبھا اورراجیہ سبھا میں منظوری کے بعد وقف ترمیمی بل کو منظوری کے لئے صدرجمہوریہ دروپدی مرموکے پاس بھیج دیا گیا تھا، جو اب منظور ہونے کے بعد قانون بن گیا۔
پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل کے حق میں 128 ووٹ اور خلاف میں 95 ووٹ پڑے تھے۔ اس سے پہلے لوک سبھا میں اس کے حق میں 288 اور خلاف میں 232 ووٹ پڑے تھے۔ دونوں ایوانوں میں اپوزیشن پارٹیوں نے اس کی پُرزورمخالفت کی تھی۔ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے اسے غیرآئینی قراردیا تھا۔ کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے نے حکومت سے بل واپس لینے کی اپیل بھی کی تھی۔
بل سے متعلق حکومت حکومت کا دعویٰ
اس بل سے متعلق حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے وقف ترمیمی بل میں شفافیت، جوابدہی اورشمولیت کو فروغ ملے گا۔ غریب مسلمان جو اپنے حقوق سے محروم تھے ان کو ان کا حق ملے گا۔ یہ ملک میں مسلمانوں کے سماجی و اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ غریب مسلمان جو اپنے حقوق سے محروم رہتے تھے، انہیں ان کے حقوق ملیں گے۔ ملک میں مسلمانوں کی سماجی اور اقتصادی صورتحال میں سدھار کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ صدرجمہوریہ دروپدی مرموکی طرف سے ترمیم اورمنظوری کے بعد، اس بل کا نام اب یونیفائیڈ مینجمنٹ ایمپاورمنٹ ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ (UMEED) ہوگیا ہے۔ یہ قانون اس بات کویقینی بناتا ہے کہ خواتین کو وقف املاک پرمساوی وراثت کے حقوق حاصل ہوں، جو صنفی مساوات کو فروغ دینے اورمسلم خواتین کو بااختیاربنانے کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کیا تحریک چلانے کا اعلان
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے ہفتہ (5 اپریل، 2025) کو اس بل کی مخالفت میں ملک گیرتحریک چلانے کی وارننگ دی ہے۔ اے آئی ایم پی ایل بی دہلی، ممبئی، کولکاتا، حیدرآباد، بنگلورو، چنئی، وجے واڑہ، ملپورم، پٹنہ، رانچی، مالیرکوٹلہ اورلکھنو میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ابھیشیک منوسنگھوی نے کہا کہ برسراقتدار جماعت نے اکثریت کا غلط استعمال کیا ہے اور بل کو زبردستی تھوپا گیا ہے۔ وہیں، دوسری جانب، حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون سے مسلم خواتین کو فائدہ ہوگا اوروقف املاک کے انتظام میں شفافیت کویقینی بنایا جائے گا۔ وقف ترمیمی بل کی ایک ماہ قبل نوین پٹنائک کی پارٹی بیجوجنتا دل (بی جے ڈی) نے مخالفت کی تھی۔ تاہم، بعد میں بل پربحث کے بعد، بی جے ڈی نے اپنے اراکین پارلیمنٹ سے آزادانہ طورپرووٹ ڈالنے کوکہا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
ہیلتھ کیئر اور ایف ایم سی جی کے شعبے کی کمپنی کُوپڈ لمیٹڈ (Cupid Ltd)…
آئی ٹی سٹی، ویلنیس سٹی، نیمش نگر اور ورون وہار سمیت 4 بڑے ترقیاتی منصوبوں…
ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’دہلی پولیس…
پنجاب میں منشیات کے کاروبار، گینگسٹر ازم اور بڑھتے جرائم کو لے کر سیاسی گھمسان…
بھارتی کپتان اسمرتی مندھانا ٹی 20 انٹرنیشنل میں 5,000 رنز مکمل کرنے سے صرف 133…
پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی نے تمام 8 نشستوں پر امیدوار اتارے ہیں، پٹنہ…