قومی

Waqf Amendment Act & Supreme Court: وقف قانون کے کن تین پوائنٹس پر سپریم کورٹ نے لگائی ہے عبوری روک، کیامرکزی حکومت کو لگا ہے جھٹکا،جانئے

سپریم کورٹ نے وقف ایکٹ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر مسلسل دوسرے دن سماعت کی۔ جمعرات کو سماعت کے دوران ایس جی تشار مہتا نے جواب داخل کرنے کے لیے عدالت سے 7 دن کا وقت مانگا۔ سالیسٹر جنرل نے یقین دلایا کہ اگلی سماعت تک وقف بورڈ یا وقف کونسل میں کسی رکن کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے ان کا بیان ریکارڈ پر لیا اور حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے 7 دن کی مہلت دے دی۔ حکومت کی جانب سے جواب داخل کرنے کے بعد درخواست گزاروں کو 5 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 5 مئی کو ہوگی۔

جمعرات کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے وقف ایکٹ پر مرکزی حکومت کو 7 دن کا وقت دیا۔ مرکز سے اس پر ایک ہفتہ کے اندر جواب دینے کو کہا گیا ہے۔ مرکز کا جواب آنے تک وقف املاک کی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی۔ جب تک حکومت جواب نہیں دیتی تب تک جمود برقرار رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ احکامات تک کوئی نئی تقرریاں نہیں ہوں گی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ 110 سے 120 فائلوں کو پڑھنا ممکن نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں ایسے پانچ نکات پر فیصلہ کرنا ہو گا۔ صرف 5 اہم اعتراضات کی سماعت کی جائے گی۔

درخواست گزاروں کو اہم نکات پر اتفاق کرنا چاہیے۔ ان اعتراضات کو نوڈل کونسل کے ذریعے حل کریں۔ عدالت نے مرکز کو جواب دینے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔ تب تک وقف بورڈ اور کونسل میں کوئی نئی تقرری نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ مقررہ وقت تک وقف  بائی یوزر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔وقف کی جائیداد جوں کہ توں بنی رہے گی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اگلے احکامات تک وقف کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ کیس کی اگلی سماعت 5 مئی کو ہوگی۔ اس دوران عدالت میں صرف 5 رٹ پٹیشنرز موجود ہوں گے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا ہے کہ تمام فریقین آپس میں فیصلہ کریں کہ ان کے پانچ اعتراضات کیا ہیں؟وقف درخواستوں کی سماعت کرنے والی بنچ میں سی جے آئی سنجیو کھنہ، جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے وی وشواناتھن شامل ہیں۔

یہ درخواستیں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی، اے اے پی ایم ایل اے امانت اللہ خان، شہری حقوق کے تحفظ کے لیے ایسوسی ایشن، ارشد مدنی، سمستھا کیرالہ جمعیۃ العلماء، انجم قادری، طیب خان سلمانی، محمد شفیع، محمد فضل الرحیم اور آر جے ڈی لیڈر منوج کمار جھا نے دائر کی ہیں۔ ٹی ایم سی ایم پی مہوا موئترا اور سماج وادی پارٹی کے لیڈر ضیاء الرحمن برق کی طرف سے دائر تازہ درخواستوں کو بھی درج کیا گیا ہے۔

عدالت میں وقف ایکٹ کی سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے وقف ایکٹ کی دفعات پر پابندی کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ دفعات پر روک لگانا ایک سخت قدم ہو گا۔ واضح رہے کہ وقف ایکٹ کے خلاف ملک بھر میں مسلم کمیونٹی اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے زبردست احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مغربی بنگال کے مرشد آباد میں وقف ایکٹ کے خلاف احتجاج میں ہوئے تشدد کی وجہ سے سیاسی ماحول بھی کافی گرم ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

7 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

7 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

8 hours ago