قومی

Wakf was imposed forcibly Says Sonia Gandhi: وقف بل جبراً مسلط کیا گیا، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں سونیا گاندھی نے کیا برہمی کا اظہار

کانگریس کی سابق صدر اور راجیہ سبھا رکن سونیا گاندھی نے وقف ترمیمی بل کے حوالے سے حکمراں جماعت پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے بل اور اسے منظور کرانے کے لیے حکومت کی جانب سے کی گئی جلد بازی پر سخت تنقید کی ہے۔ سونیا گاندھی کے مطابق یہ بل جبراً پاس کرایا گیا ہے اور اسے زبردستی مسلط کیا گیا ہے۔ مذکورہ باتیں سونیا گاندھی نے کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کی جنرل باڈی میٹنگ میں کہیں۔ میٹنگ میں سونیا گاندھی کے علاوہ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی بھی موجود تھے۔

قابل ذکر ہے کہ وقف ترمیمی بل راجیہ سبھا میں پیش کیے جانے سے قبل سی پی پی کی یہ میٹنگ ہوئی تھی۔ اس میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’کل لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پاس ہو گیا اور آج اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا جانا ہے۔ اس بل کو جبراً پاس کیا گیا ہے۔ ہماری پارٹی کا موقف واضح ہے۔ یہ بل آئین پر ایک حملہ ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کو مستقل طور پر پولرائزڈ رکھنے کی بی جے پی کی منصوبہ بند حکمت عملی کا حصہ ہے۔‘‘ اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت ملک کو کھائی میں ڈھکیل رہی ہے۔ حکومت تعلیم، شہریوں کے حقوق، لوگوں کی آزادی، ہمارے وفاقی ڈھانچے اور انتخابات کے انعقاد کسی کو بھی نہیں بخش رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب ہمارا آئین صرف کاغذوں پر رہ جائے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ ان کا ارادہ اسے بھی تباہ کرنے کا ہے۔

میٹنگ میں اراکین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’ہم تمام کے لیے ضروری ہے کہ ہم صحیح اور انصاف کے لیے لڑتے رہیں۔ مودی حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کریں۔ حکومت ہر چیز پر نظر رکھنا چاہ رہی ہے۔ ہمیں اسے لوگوں کے سامنے لانا ہوگا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیر اعظم نے 2014-2004 کے دوران کیے گئے کئی اقدامات کو اپنی ذاتی کامیابیوں کے طور پر ری برانڈ، ری پیکج اور مارکیٹنگ کیا ہے۔

سونیا گاندھی نے دونوں ایوانوں کے کام کاج پر بولتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن لیڈران کو بولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکمراں جماعت اکثر کانگریس کو اپنے مسائل اٹھانے کی اجازت نہ دینے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرتی رہی ہے۔ بی جے پی کے اراکین کانگریس کے زیر اقتدار ریاستی حکومتوں کے بارے میں جھوٹ پھیلانے کے لیے جارحانہ رخ اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ سے گزارش کی ہے کہ وہ بھی اسی طرح جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستی حکومتوں کی ناکامیوں اور غلط حکمرانی کو سب کے سامنے لائیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Habiburrahman

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

4 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

4 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

5 hours ago