مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود بھارت کے لیے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ قطر سے تقریباً 54 ہزار ٹن ایل پی جی گیس لے کر بھارتی آئل ٹینکر جہاز ’شیوالک‘ بحفاظت گجرات کی مندرا بندرگاہ پہنچ گیا ہے۔ بھارتی بحریہ کی سخت سیکیورٹی نگرانی میں اس جہاز نے حساس سمندری راستے آبنائے ہرمز کو کامیابی کے ساتھ عبور کیا، جس کے بعد ملک میں گیس کی قلت سے متعلق خدشات بڑی حد تک کم ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق ایل پی جی سے بھرا یہ بڑا ٹینکر پیر کی صبح تقریباً نو بجے مندرا پورٹ پر لنگر انداز ہوا۔ جہاز قطر سے روانہ ہوا تھا اور اسے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سمندری خطرات کے باعث خصوصی حفاظتی انتظامات کے تحت سفر کرایا گیا۔ بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز اس کے ساتھ بطور اسکواڈ موجود رہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
آبنائے ہرمز اس وقت دنیا کے حساس ترین سمندری راستوں میں شمار ہو رہی ہے۔ ایران کی جانب سے سخت نگرانی اور سیکیورٹی اقدامات کے باعث کئی مغربی ممالک کے بحری جہاز اس راستے سے گزرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔ تاہم بھارتی بحریہ کے جنگی جہازوں نے ’شیوالک‘ اور اس کے پیچھے آنے والے ایک اور جہاز ” نندا دیوی“ کو مکمل حفاظتی حصار میں رکھتے ہوئے اس راستے کو عبور کرایا۔ اس دوران بھارتی پرچم سمندر میں پوری شان کے ساتھ لہراتا رہا اور یہ پیغام دیا گیا کہ بھارت اپنی توانائی کی سلامتی کے معاملے میں کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے پہلے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے کسی بھی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم بھارت اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کے بعد بھارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ قیادت کی سطح پر بات چیت کے نتیجے میں یہ راستہ کھولا گیا، جس کے بعد جہاز بحفاظت اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔ اس دوران بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز جدید فضائی دفاعی نظام سے لیس تھے اور پورے سفر کے دوران ٹینکر کے ساتھ رہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اقدام اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہا ہے۔
ادھر ملک بھر میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث ایل پی جی کی ممکنہ قلت کے حوالے سے مختلف افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ تاہم اس بڑی کھیپ کے پہنچنے کے بعد ان خدشات میں واضح کمی آنے کی توقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’شیوالک‘ کے ذریعے آنے والی 54 ہزار ٹن ایل پی جی بھارت کی روزانہ درآمدی ضروریات کا اہم حصہ ہے۔ مزید خوش آئند بات یہ ہے کہ ایک اور بڑا ٹینکر ” نندا دیوی“ بھی اگلے 24 گھنٹوں کے اندر کاندلا بندرگاہ پہنچنے والا ہے۔ دونوں جہازوں کے ذریعے مجموعی طور پر تقریباً 92 ہزار 700 ٹن ایل پی جی بھارت پہنچ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے نہ صرف مارکیٹ میں گیس کی فراہمی مستحکم ہوگی بلکہ کسی ممکنہ بحران کے خدشات بھی تقریباً ختم ہو جائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بینک یونینوں کے اعلان کے مطابق 28، 29 اور 30 ستمبر کو بینک ملازمین ملک…
نوئیڈا میں ایپل اسٹور کے باہر ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ اس نے بیوی…
ایس پی وشواجیت دیال کو مںجھوے ریت گھاٹ پر غیر قانونی کان کنی اور ریت…
دو بار کی اولمپک تمغہ جیتنے والی پی وی سندھو نے کمیلا سماگولووا کو یکطرفہ…
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 48000 کروڑ روپے کی لاگت والا یہ منصوبہ آسام میں…
سپر ال نینو الرٹ: 180 سے زائد سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ شدید…