قومی

Violent Clash Dhule Gurudwara: گوردوارے کی گدی کے لیے دھولے میں خوفناک خونی تصادم، دو افراد شدید زخمی، آٹھ افراد حراست میں

دھولے: مہاراشٹر کے دھولے شہر سے ایک نہایت تشویشناک اور حساس واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک تاریخی گوردوارے کی گدی یعنی سربراہی اور قبضے کو لے کر دو گروپوں کے درمیان شدید تشدد بھڑک اٹھا۔ پیر اور منگل کی درمیانی شب پیش آنے والے اس واقعے میں گردواہ مکمل طور پر میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔ دونوں جانب سے زبردست پتھراؤ، لاٹھی ڈنڈوں کا استعمال اور افراتفری دیکھنے میں آئی، جس کے بعد علاقے میں بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔ پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق اس خونریز تصادم کی جڑیں گوردوارے کے سابق سربراہ بابا دھیرج سنگھ خالصہ کے قتل سے جڑی ہوئی ہیں۔ سکھ برادری کے ایک بڑے طبقے کا الزام ہے کہ بابا دھیرج سنگھ کے قتل کے پیچھے بابا رنویر سنگھ کا ہاتھ ہے۔ اسی الزام اور پرانی رنجش کے باعث گوردوارے کی گدی کو لے کر تنازع شدت اختیار کرتا چلا گیا۔

اطلاعات کے مطابق بابا رنویر سنگھ نے اپنے حامیوں کے ساتھ گزشتہ دو دنوں سے گوردوارے پر مبینہ طور پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا تھا۔ اس قبضے کے خلاف سکھ برادری کے افراد میں شدید غصہ پایا جا رہا تھا۔ پیر کی رات جب بڑی تعداد میں لوگ احتجاج کے لیے گوردوارے پہنچے تو حالات تیزی سے بے قابو ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے جھڑپ تشدد میں بدل گئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گوردوارے کے احاطے کے اندر سے آنسو گیس کے گولے چھوڑے گئے، جس کے جواب میں باہر موجود مشتعل ہجوم نے شدید پتھراؤ شروع کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں دونوں طرف سے لاٹھی ڈنڈوں کا استعمال ہونے لگا۔ اس خونی تصادم میں کم از کم دو افراد شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

واقعے کی خبر پھیلتے ہی پورے دھولے شہر میں سنسنی پھیل گئی۔ کئی علاقوں میں دکانیں بند ہو گئیں اور لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حالات پر قابو پانے کی کوشش کی اور اضافی نفری طلب کی گئی۔ گوردوارے کے آس پاس کا علاقہ مکمل طور پر پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

دھولے کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اجے دیورے نے بتایا کہ پولیس نے مرکزی ملزم بابا رنویر سنگھ سمیت آٹھ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز ویڈیوز یا افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔ فی الحال علاقے میں حالات قابو میں بتائے جا رہے ہیں، تاہم پولیس انتظامیہ مکمل الرٹ پر ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں اور کسی بھی قسم کی افواہوں پر یقین نہ کریں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر مقدس مقامات پر انتظامی نظم و ضبط اور قیادت کے تنازعات کو سنگین مسئلہ بنا کر پیش کر دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

15 minutes ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

43 minutes ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

1 hour ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

2 hours ago

PM Modi Chintan Shivir: سیوا تیرتھ میں وزرا کا ’مہامنتھن‘، پی ایم مودی کا 4 روزہ چنتن شِور شروع

وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…

3 hours ago