قومی

Vice Presidential Election 2025: رادھا کرشنن کو بلامقابلہ منتخب کرانے میں مصروف ہوئی بی جے پی، راجناتھ سنگھ نے اپوزیشن لیڈران کوکیا فون

نئی دہلی: این ڈی اے کے نائب صدرامیدوارکے اعلان کے بعد آج انڈیا الائنس کے ذریعہ اپنے امیدوار کے اعلان کی باری ہے۔ پارلیمنٹ بلڈنگ میں انڈیا الائنس کی میٹنگ ہوئی ہے، جس میں نائب صدرعہدے کے امیدوارپرتبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ ابھی تک اپوزیشن کی طرف سے کسی امیدوارکا نام سامنے نہیں آیا ہے۔ اس درمیان وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے سبھی اپوزیشن لیڈران کوفون کرکے این ڈی اے نائب صدر امیدوار کے لئے سی پی رادھا کرشنن کا نام بتاکرحمایت مانگی ہے۔

راجناتھ سنگھ نے اتوارکی شام کانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے سے بات کی اورسی پی رادھا کرشنن کے لئے حمایت مانگی۔ واضح رہے کہ 9 ستمبرکوہونے والا نائب صدرعہدے کا الیکشن این ڈی اے کی طرف سے راجناتھ سنگھ کی نگرانی میں ہوگا۔ اس لئے راجناتھ سنگھ تمام اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہان سے رابطہ کررہے ہیں اور ان کی حمایت طلب کررہے ہیں۔ مرکزی وزیرکرن رجیجو کوالیکشن ایجنٹ بنایا گیا ہے۔

کب نامزدگی داخل کریں گے رادھا کرشنن؟

این ڈی اے نے اتوارکواپنے امیدوارکے نام کا اعلان کردیا تھا۔ این ڈی اے کی طرف سے نائب صدرعہدے کے لئے مہاراشٹرکے گورنرسی پی رادھا کرشنن امیدوارہوں گے۔ اتوارکے روزوزیراعظم کی صدارت میں بی جے پی پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں سی پی رادھا کرشنن کے نام پرمہرلگی۔ سی پی رادھا کرشنن 21 اگست کوپرچہ نامزدگی داخل کریں گے۔ اس دوران این ڈی اے کے زیراقتدارریاستوں کے سبھی وزرائے اعلیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ بھی موجود رہیں گے۔

ڈی ایم کے مخالفت کرے گی یا حمایت؟

این ڈی اے کے اعدادوشمارکودیکھتے ہوئے سی پی رادھا کرشنن کا اگلا نائب صدر بننا طے مانا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی وزیراعظم مودی نے رادھا کرشنن پرداؤں لگا کراپوزیشن میں بھی سیندھ لگانے کی کوشش کی ہے۔ رادھا کرشنن تمل ناڈوسے ہیں، ایسے میں اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ڈی ایم کے ان کی مخالفت کرتی ہے یا رادھا کرشنن کی حمایت میں ووٹ ڈالے گی۔

کیا ہے اعدادوشمار؟

اس بارکل 782 اراکین پارلیمنٹ ووٹنگ کے لئے اہل ہیں، جن میں 542 لوک سبھا اور240 راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ اکثریت کے لئے 392 اراکین پارلیمنٹ کی ضرورت ہوگی۔ حکومت کی حمایت میں 427 اراکین پارلیمنٹ بتائے جا رہے ہیں جبکہ اپوزیشن کے پاس 355 اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ اس میں دلچسپ پہلویہ ہے کہ ان میں سے 133 اراکین پارلیمنٹ ایسے ہیں، جوابھی دونوں طرف جاسکتے ہیں۔ اس طرح سے وہ وہ پورے الیکشن کا رخ بدل سکتے ہیں۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Rahul Gandhi Statement: ’آج نہیں تو کل، جیت ہماری ہی ہوگی‘، اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی کا بیان

دہلی میں اپوزیشن لیڈروں کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ جمہوریت اور…

24 minutes ago

Adani Group: اے آئی کی سونامی کے لیے بھارت تیار! اڈانی گروپ اور امریکی کمپنی Jabil مل کر ملک میں بنائیں گے سرور اور کولنگ سسٹم

اڈانی گروپ اور امریکی کمپنی Jabil بھارت میں اے آئی اور ڈیٹا سینٹر سے متعلق…

47 minutes ago

HM Amit Shah’s reply to Rahul Gandhi: امت شاہ کا راہل گاندھی کو دوٹوک جواب، کہا- 2029 میں چوتھی شکست کے لیے تیار رہیں

وزیر داخلہ امت شاہ نے ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: ڈیجیٹل سہولتوں سے گرین انرجی تک، وزیر اعظم نریندر مودی نے دنیا کے سامنے گنوائیں بھارت کی کامیابیاں

وزیر اعظم نے ڈیجیٹل سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ٹیکنالوجی کی…

2 hours ago