ممبئی: ہندی سنیما کے مشہور و معروف اداکار گووردھن اسرانی کا 84 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ ان کے بھتیجے اشوک اسرانی نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ اسرانی طویل علالت کے بعد پیر کی شام تقریباً 4 بجے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی آخری رسومات ممبئی کے سنتاکروز کریمیٹوریم میں ادا کی گئیں۔
راجستھان کے جے پور سے تھا تعلق
مرحوم اثرانی کا تعلق راجستھان کے شہر جے پور سے تھا، جہاں انہوں نے اپنی تعلیم سینٹ زیویئرز اسکول سے حاصل کی۔ ان کے پی۔اے بابوبھائی نے میڈیا کو بتایا کہ: ’’اسرانی صاحب کو چار دن قبل جُوہو کے بھارتیہ آروگیہ ندھی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے پھیپھڑوں میں پانی جمع ہو گیا تھا۔ 20 اکتوبر کو تقریباً 3:30 بجے ان کا انتقال ہو گیا۔ آخری رسومات فوراً ادا کر دی گئیں۔‘‘
اہل خانہ نے خاموشی سے انجام دیں آخری رسومات
بابوبھائی نے بتایا کہ اہل خانہ نے ان کی خواہش کے مطابق سادگی کے ساتھ فوری تدفین کی۔ انہوں نے کہا: ’’اسرانی صاحب نے اپنی بیوی منجو اسرانی سے کہا تھا کہ ان کی موت کو کسی بڑے تقریب یا تماشے میں نہ بدلا جائے۔ اسی لیے اہل خانہ نے تدفین کے بعد ہی ان کے انتقال کی خبر عام کی۔‘‘ خاندان کی جانب سے جلد ہی سرکاری بیان اور ایک دعائیہ تقریب کا اعلان متوقع ہے۔
پانچ دہائیوں پر محیط شاندار سفر
اسرانی کا کیریئر پچاس برس سے زیادہ طویل رہا، جس دوران انہوں نے 350 سے زائد فلموں میں اپنی لازوال اداکاری کے جوہر دکھائے۔ وہ خاص طور پر مزاحیہ اداکار اور معاون کرداروں میں اپنی بے مثال کارکردگی کے سبب ناظرین کے دلوں میں گھر کر گئے۔
ستر کی دہائی میں ملا عروج
ستر کی دہائی اثرانی کے فنی عروج کا زمانہ تھی۔ وہ اس دور میں ہندی سنیما کے سب سے زیادہ مانگ والے کریکٹر ایکٹرز میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی مشہور فلموں میں میرے اپنے، کوشش، باورچی، پریچے، ابھیمان، چپکے چپکے، چھوٹی سی بات اور رفو چکر شامل ہیں۔ لیکن 1975 کی بلاک بسٹر فلم ’’شعلے‘‘ میں جیلر کے منفرد اور مزاحیہ کردار نے انہیں سدا بہار مقبولیت دی۔ یہ کردار آج بھی بھارتی فلمی تاریخ کا ایک ثقافتی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
ہدایت کاری اور اسکرپٹ نویسی میں بھی مہارت
اداکاری کے علاوہ اسرانی نے ہدایت کاری اور کہانی نویسی کے شعبے میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے ’’چلا مراری ہیرو بننے‘‘ (1977) میں مرکزی کردار نبھانے کے ساتھ ساتھ کہانی لکھی اور فلم کی ہدایت بھی دی۔ ان کی دیگر ہدایت یافتہ فلموں میں ’’سلام میم صاحب‘‘ (1979) قابل ذکر ہے۔ اسی طرح وہ گجراتی سنیما میں بھی نمایاں رہے جہاں انہوں نے 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں متعدد فلموں میں مرکزی کردار ادا کیے اور زبردست کامیابی حاصل کی۔
مداحوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اسرانی
اثرانی کی ظرافت، مکالمے کی ادائیگی اور فطری انداز مزاح نے انہیں اپنے ہم عصر فنکاروں سے منفرد بنا دیا۔ ہندی فلم انڈسٹری نے ان کے انتقال کے ساتھ ایک سنہرا دور کھو دیا ہے۔ ان کی یادیں کردار اور ہنسی ہمیشہ مداحوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتی رہیں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ شری کلکی دھام کی تعمیر کے لیے انہوں نے…
یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…