بھارت کی سیاست کے سب سے زیادہ زیر بحث رہنے والے چہروں میں شمار ہونے والے ورون گاندھی نے آج اپنے خاندان کے ہمراہ وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کر کے سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران ٹکٹ کٹنے اور طویل عرصے تک مرکزی دھارے کی سیاست سے دور رہنے کے بعد یہ ملاقات محض رسمی شائستگی کے طور پر نہیں دیکھی جا رہی بلکہ اسے ورون کی سیاست میں واپسی اور نئی ذمہ داریوں کے آغاز کے طور پر سمجھا جا رہا ہے۔ ملاقات میں ورون نے نہ صرف وزیراعظم کا آشیرباد حاصل کیا بلکہ سوشل میڈیا پر انہیں ’باپ جیسا‘ اور ملک کا ’سچا محافظ‘ قرار دے کر یہ واضح کیا کہ وہ کسی ناراضگی یا اختلاف کی حالت میں نہیں ہیں۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ قدم ورون گاندھی کے آئندہ سیاسی سفر کے لیے نئے دروازے کھول سکتا ہے اور انہیں دوبارہ مرکزی دھارے میں فعال کردار کے لیے تیار کرتا ہے۔
بڑی ذمہ داری کے امکانات
ملاقات کے بعد ورون نے بیان میں کہا کہ وزیراعظم کے گرد والدانہ محبت اور تحفظ کا اثر نمایاں ہے اور ملاقات نے یہ یقین مزید مضبوط کر دیا ہے کہ مودی ملک اور شہریوں کے حقیقی سرپرست ہیں۔ یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ گزشتہ چند برسوں میں ورون کئی مواقع پر اپنی ہی پارٹی کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے رہے تھے۔ تاہم اب انہوں نے وزیراعظم کو ملک کا محافظ قرار دے کر واضح کیا کہ وہ پارٹی اور حکومت میں دوبارہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ جلد ہی انہیں پارٹی یا حکومت میں کوئی اہم ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔
بی جے پی کے لیے ورون کا کردار کیوں اہم؟
سنجے گاندھی اور مینکا گاندھی کے بیٹے ورون گاندھی کی سیاست ہمیشہ سے توجہ کا مرکز رہی ہے۔ نہرو-گاندھی خاندان کی میراث سے نکل کر بی جے پی میں اپنی جگہ بنانے والے ورون پیلی بھیت سے تین بار رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ 2012 میں بی جے پی کے سب سے کم عمر جنرل سکریٹری بننے والے ورون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں تقریر کرنے کی وہ مہارت موجود ہے جو کبھی ان کے والد میں ہوا کرتی تھی۔
اگرچہ گزشتہ کچھ عرصے سے وہ سیاسی منظرنامے میں حاشیے پر تھے، لیکن وزیراعظم مودی کے ساتھ ان کی یہ ملاقات واضح کرتی ہے کہ بی جے پی قیادت انہیں دوبارہ مرکزی دھارے میں لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ورون کی یہ واپسی بی جے پی کے لیے نئی توانائی اور پارٹی کی حکمت عملی میں مضبوطی کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر وہ حلقے جہاں گاندھی خاندان کی سیاسی پہچان اثر رکھتی ہے۔ ورون کی یہ تازہ ملاقات پارٹی اور عوام کے لیے ایک مضبوط پیغام بھی ہے کہ وہ دوبارہ اہم سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں اور بی جے پی کے مستقبل کے منصوبوں میں کلیدی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…